چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی فیلڈ مارشل سے الوداعی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزانے آج جنرل ہیڈ کوارٹر میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایچ جے سے الوداعی ملاقات کی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی شاندار قیادت، مثالی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اسٹریٹجک بصیرت اور پاک افواج کیلئے ان کی طویل خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے کہا کہ جنرل ساحر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوئی، مشترکہ آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہوا اور قومی سلامتی کے اسٹریٹجک اہداف کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں استحکام، عسکری سفارت کاری اور دوست ممالک کے ساتھ دفاعی روابط کو مضبوط بنانے میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے کیریئر کے دوران ملنے والے تعاون پر آرمی چیف اور پاک افواج کا شکریہ ادا کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر فیلڈ مارشل نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔