مرتضیٰ بھٹو قتل کیس، عدالت کی اپیل میں درست دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
عدالت کو بتایا گیا کہ کیس میں نامزد شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل اور مسعود شریف کا انتقال ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کی اپیلوں کی سماعت پر مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں درست دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت کر دی۔ دوران سماعت وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں متعدد ملزمان انتقال کر چکے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کیس میں نامزد شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل اور مسعود شریف کا انتقال ہو چکا ہے۔ وکیل اپیل کننده نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں نامزد مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں منسلک دستاویزات پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔
عدالت نے درست دستاویزات اپیل کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وکلاء کی استدعا پر اپیل کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔ مرتضیٰ بھٹو کو 1996ء میں کراچی میں دو تلوار کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا، واقعے کے دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ایک مقدمہ سرکار اور دوسرا مرتضیٰ بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عدالت کو بتایا کہ کیس میں شاہد حیات کی اپیل
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان