محکمہ جنگلی حیات نے چار ماہ کے دوران مادہ سبزکچھووں کے 30 ہزارکےلگ بھگ انڈے گھونسلوں میں رکھ دیے۔ انڈوں سےنکلنے والے3ہزارکےقریب بچےسمندرمیں زندگی کےنئےسفرپرروانہ کردیے۔سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچےسمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں۔

مادہ سبزکچھوا کراچی کےساحلی مقامات سینڈز پٹ،ہاکس بے،پیراڈائزپوائنٹ کےعلاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی، گوادر،اورماڑہ  پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرناجزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہیں۔

کئی برس تک کراچی کےساحلی مقامات پرگرین ٹرٹلزکی افزائش نسل میں مسلسل جمود کےبعد ایک مرتبہ پھرمثبت پیش رفت ہورہی ہے۔

اس دوران ماضی کی طرزپرانڈے دینےکےلیے آنے والی مادہ کچھووں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہواہے۔گزشتہ چار ماہ کےدوران(اگست تا نومبر)سندھ وائلڈ لائف کےاہل کاروں نےاب تک 30ہزارکےلگ بھگ انڈےآہنی حفاظتی گرل کے حامل گھونسلوں میں منتقل کردیے ہیں،جہاں ان انڈوں میں افزائش نسل کا عمل جاری ہے۔

واضح رہےکہ کبھی انڈوں کی اتنی تعداد پورے سیزن میں ہواکرتی تھی۔

محکمہ سندھ وائلڈ لائف کے انچارج میرین ٹرٹل اشفاق میمن کا ایکسپریس نیوزسےگفتگومیں کہناتھا کہ رواں سال بڑی حد تک مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔اب تک 30ہزارانڈے جمع کیے جاچکےہیں جبکہ انڈوں سےنکلنے والےایک تا دو روزکے30ہزارکےلگ بھگ بچے سمندرمیں چھوڑے جاچکےہیں۔ رات کی تاریکی میں مادہ سبزکچھوے کی آمد کا سلسلہ ہاکس بے کےطویل ساحل پرجاری ہے۔

ایسے وقت میں موقع پرموجود محکمہ جنگلی حیات کےاہل کاراس بات ممکن بناتے ہیں کہ مادہ کچھوا کوکسی قسم کے شور شرابے، برقی لائٹوں یا پھرکسی اوردشواری کا سامنا نہ ہو،کیونکہ جب ان مادہ کچھوا کوسازگارماحول دستیاب نہیں ہوتاتووہ واپس گہرے پانی میں چلی جاتی ہیں،اس واپسی کےسفرمیں اکثران کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ صبرآزما مراحل کےبعد اہلکاران انڈوں کوجمع کرنے کا کام شروع کردیتے ہیں۔

اشفاق میمن کے مطابق سن 2000تک سمندری کچھووں کی 7 اقسام سندھ،بلوچستان کے ساحلی مقامات پرپائی جاتی تھیں۔تاہم، سمندری آلودگی،تجارتی سرگرمیوں اورتفریحی عوامل کی وجہ سے یہ تعداد بتدریج کم ہوکراب صرف 2رہ گئی،ان دواقسام میں سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے)بھی تقریبا ناپید ہوچکے ہیں۔ سن 2010کے بعد کوئی بھی زندہ زیتونی مادہ کچھواکراچی کے ساحلوں پرنہیں دیکھا گیا۔البتہ مردہ حالت میں لہروں کے دوش پربہتے کنارے پرضرور رپورٹ ہوچکے ہیں، سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچےسمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں۔

سبزکچھوے بحراوقیانوس،بحرالکاہل اوربحرہند کے گرم اورمعتدل ساحلوں کے قرب وجوار میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی اوسط عمر70سال کے لگ بھگ ہوتی ہے،مگریہ 100سال تک بھی جیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ جاندارڈائنا سار کے دورسے کرہ ارض پرموجود ہیں،مادہ کچھوا ایک وقت میں 120سے170کی تعداد میں انڈے دیتی ہے۔ ان انڈوں کی ساخت ٹیبل ٹینس کے بڑی گیند جیسی ہوتی ہے۔ مادہ سبز کچھوا کراچی کے سینڈز پٹ،پیراڈائزپوائنٹ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی،گوادر،اورماڑہ  پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرنا جزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہے۔

آئی یوسی این کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں سے بحفاظت نکلنے والے کچھووں کی بقا کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد ہے،یعنی ایک ہزاربچوں میں سے کوئی ایک زندہ بچ پاتا ہے۔یہی وہ نقطہ فکرہے،جس کی وجہ سے عالمی ادارے اورسندھ وائلڈ لائف ان بچوں کی بقا کے لیے مسلسل سرگرداں ہیں۔

ماہرین کے مطابق کچھوے سمندر کی گہری تہہ میں ایک ایسے کردارکے حامل ہیں،جس پرسمندر کی پوری دنیا کی سلامتی کا دارومدارہے،ان کچھووں کی خوراک تہہ آب اگنے والی سمندری گھانس ہے،جس کو یہ اپنی خوراک کے ذریعے ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتے،اگرکچھوے اس گھانس کو کھانا چھوڑدیں تواس گھانس کی بلندی کی وجہ سے سمندرمیں شدید گھٹن پیداہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افزائش نسل کے لگ بھگ کراچی کے کے مطابق

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار