یوکرین کا روس کی اہم آئل پورٹ پر ڈرون حملہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-01-3
ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین نے روس کی بحیرہ اسود میں مرکزی بندرگار تاؤپسے پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آئل ٹرمینل اور دو غیرملکی جہازون کو نقصان پہنچا۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی حکام نے بتایا کہ تاؤپسے میں ہونے والے حملے میں دو غیرملکی جہازوں کو نقصان پہنچا ہے جہاں بحیرہ اسود میں روس کے بڑے آئل ٹرمینلز میں سے ایک ہے اور حملے میں اس ٹرمینل پر آگ بھڑک اٹھی۔روس کے کراسنڈور ریجن کے ایمرجنسی آپریشنل ہیڈکوارٹرز سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تاؤپسے بندرگاہ پر ڈرون حملہ رات کو ہوا جہاں موجود دو غیرملکی جہاز نشانہ بنے۔بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، جہاز کا عملہ سمیت وہاں کام کرنے والے دیگر افراد محفوظ ہیں لیکن بندرگاہ کی عمارت اور ٹرمینل کا انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی اور یوکرینی ٹیلی گرام چینلوں میں مختلف ویڈیوز میں دیکھایا گیا ہے، جس میں ٹرمینل میں تیل کے ٹینکر میں آگ لگی ہوئی ہے۔ادھر یوکوین کی اندرونی سیکیورٹی سروس ایس بی یو کے عہدیدار نے بتایا کہ یوکرین کی فورسز نے تاؤپسے آئل ٹرمینل پر ڈورن حملہ کیا، 5 ڈرونز نے ایک آئل ٹینکر، لوڈنگ انفرا اسٹرکچر اور پورٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔رپورٹ کے مطابق تاؤپسے بحیرہ اسود میں آئل ٹرمینل اور روزنیفٹ آئل ریفائنری کا مرکز ہے، جس کو یوکرین نے رواں برس کئی مرتبہ ڈرون سے نشانہ بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تاو پسے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔