مالدیپ نئی نسل کیلئے تمباکو نوشی پر مکمل پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
مالدیپ نے تمباکو نوشی کے خلاف ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نئی نسل کے لیے تمباکو کے استعمال پر مستقل پابندی نافذ کر دی، یوں وہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے آئندہ نسلوں کے لیے سگریٹ نوشی کو قانونی طور پر ممنوع قرار دیا ہے۔
مالدیپ کی وزارتِ صحت کے مطابق نئے قانون کے تحت یکم جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر زندگی بھر تمباکو مصنوعات کی خرید و فروخت اور استعمال مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
یہ قانون صدر محمد معیزو نے مئی میں منظور کیا تھا، جس کا مقصد تمباکو سے پاک نسل کی تشکیل اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ صحت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی ایک جرات مندانہ اقدام ہے تاکہ نوجوان شہری تمباکو کے مہلک اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
حکام کے مطابق یہ پالیسی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔