پنجاب بھر میں وال چاکنگ پر سختی سے پابندی عائد کرتے ہوئے عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

صوبے بھر میں بے ہنگم تجاوزات کو بھی خوبصورتی میں ڈھالنے اور تمام دیواروں سے وال چاکنگ کے خاتمے کے بعد انہیں صاف اور خوش نما بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں خالصتان کے حق میں چاکنگ ہوگئی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس اہم اور بڑے پیمانے کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبائی تاریخ میں پہلی بار ہر شہر کی بیوٹیفکیشن کے لیے ایک شاندار اور منفرد پلان تیار کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت سرکاری و نجی عمارتوں کی دیواروں پر موجود وال چاکنگ کو مکمل طور پر ختم کرکے انہیں صاف اور بہتر بنایا جائے گا۔

پنجاب کے 39 اضلاع میں بیوٹیفکیشن کے مجموعی طور پر 132 منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن پر ساڑھے 16 ارب روپے کی لاگت آئے گی، جن میں سے 122 سکیموں پر کام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔

لاہور، بہاولپور، ڈی جی خان، سرگودھا، گجرات، فیصل آباد اور راولپنڈی میں بیوٹیفکیشن منصوبے اگلے سال جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ملتان میں منصوبے نومبر تک جبکہ گوجرانوالہ میں دسمبر کے آخر تک مکمل کیے جائیں گے۔ ساہیوال میں بیوٹیفکیشن کی 24 اسکیمیں اگلے سال مارچ تک مکمل کر لی جائیں گی۔

منصوبے کے تحت ہر شہر میں سڑکوں اور بازاروں کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ٹف ٹائلز لگائی جائیں گی، مرکزی بازاروں کو جاذبِ نظر بنانے کے لیے اپ لفٹنگ اور بیوٹیفکیشن کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی ترقی سے جلنے والوں کے دماغ کی صفائی کررہی ہوں، مریم نواز کی مخالفین پر پھر تنقید

اسی طرح مختلف شہروں کے قدیمی دروازوں اور روایتی بازاروں کو بھی ری ماڈلنگ کے ذریعے نئی اور خوبصورت شکل دی جائے گی جس سے صوبے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت مزید اجاگر ہوگی۔

حکام کے مطابق اس بڑے منصوبے کا مقصد شہری خوبصورتی میں اضافہ، بہتر شہری ماحول کی فراہمی اور صوبے کو جدید اور صاف ستھرا چہرہ دینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بے ہنگم تجاوزات پابندی عائد پنجاب وال چاکنگ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بے ہنگم تجاوزات پابندی عائد وال چاکنگ وی نیوز میں بیوٹیفکیشن وال چاکنگ گیا ہے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن