Islam Times:
2026-07-24@12:02:26 GMT

یمن کا سعودی عرب کو الٹی میٹم

اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT

یمن کا سعودی عرب کو الٹی میٹم

اسلام ٹائمز: یمنی قیادت نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے امن معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیے تھے۔ یہ وہی تقاضے ہیں جن پر عمل درآمد طوفان الاقصیٰ کی جنگ اور یمن کی طرف سے غزہ کی حمایت میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں کے باعث مؤخر ہو گیا تھا۔ اب صنعاء ان شرائط و مفادات کے نفاذ کی تیاری کر رہا ہے جن پر اس نے پہلے امریکی دباؤ کے باعث عمل نہیں کیا تھا۔ یمن کی اعلیٰ قیادت کے بیانات سے واضح ہے یمن اسلامی اپنے وقار، عزت، حقوق اور غزہ کی نصرت پر کوئی سمجھوتہ کرنیکے لئے تیار نہیں۔ خصوصی رپورٹ:

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور جنگِ غزہ کی حمایت میں یمنی کارروائیوں کے رک جانے کے بعد، یمن کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں ریاض سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طے پانے والے امن معاہدے کی شقوں پر اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ واضح رہے کہ جب فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی طرف سے صہیونی رژیم کے خلاف طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع ہوا تھا، اُسی دوران یمن اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات بھی جاری تھے، جو کئی ماہ تک چلتے رہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں فریقین کے درمیان جنگ کے خاتمے اور عسکری، انسانی، اور سیاسی اختلافات کے حل کے لیے متعدد سمجھوتے طے پائے تھے۔
غزہ جنگ کیوجہ سے یہ معاہدہ اس وقت مؤخر ہو گیا، جب صنعاء نے فلسطینی مزاحمت کی حمایت اور اہلِ غزہ کے مظلوم عوام کے دفاع کی جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن غزہ میں صہیونیوں کی نسل کُشی پر مبنی جنگ رک جانے کے بعد، یمنی نقطۂ نظر کے مطابق اب امن معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سعودی فریق پر عائد ہوتی ہے۔ یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المَشاط نے ریاض کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور سستی و غفلت کی پالیسی جاری رکھنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صعودیہ صرف کشیدگی میں کمی کے مرحلے تک محدود نہ رہے، بلکہ یمن کے ساتھ امن معاہدے کی واضح شرائط پر عمل درآمد کرے۔

یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ یہی وہ قریب ترین اور بہترین راستہ ہے جو اُن لوگوں کی لالچ اور فتنہ انگیزی کو روک سکتا ہے جو اسلامی امت کے اندر جنگ کے آپشن پر سرمایہ کاری کر کے اسرائیل کے مفادات کی خدمت کر رہے ہیں، اگر آپ غور کریں تو امریکہ خطے کی تمام حساس صورتحال سے اسرائیل کے حق میں فائدہ اٹھا رہا ہے۔ صنعا نے اس بات کو نہیں چھپایا کہ وہ سعودی عرب کے امریکی و اسرائیلی دباؤ کے تحت اپنے وعدوں سے پہلو تہی کرنے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ یمنی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ فوجی کشیدگی کی پالیسی اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کرے گا، چاہے اس کے نتائج دونوں فریقوں کے لیے تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں۔

اسی سلسلے میں یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے رکن ضیفُ اللہ الشامی نے تسنیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج یمنی قوم ہی وہ فریق ہے جو غزہ کی حمایت کے عزم اور فلسطین کی نصرت کے راستے پر کھڑی ہے اور اس نے اس بڑے معرکے میں استقامت دکھانے کے لیے اپنے ذاتی مفادات اور وقتی مصالح کو قربان کیا ہے، ممکن ہے کہ غزہ کی جنگ کے خاتمے کے بعد یمن کے خلاف جاری جارحیت، یمنی عوام کے مطالبات، اور ان کے حقوق کی بازیابی، چاہے وہ امن، گفتگو، مفاہمت کے ذریعے ہو یا طاقت کے ذریعے ایک بار پھر یمنی قیادت کی اولین ترجیحات میں شامل ہو جائے۔   انہوں نے کہا کہ یمنی عوام نے فلسطینی مزاحمت کی حمایت کو اُن ممالک کے ساتھ امن معاہدوں پر ترجیح دی جو یمن کے خلاف جنگ میں شریک ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک فلسطین کی نصرت اور امتِ اسلامی کے مفادات سب سے مقدم ہیں۔ تاہم، یمنی نقطۂ نظر کے مطابق، اس کا مطلب اپنے حقوق سے دستبرداری نہیں، چاہے وہ امن کے ذریعے حاصل ہوں یا جنگ کے ذریعے۔ یمن کی قومی کونسل کے رکن حمید عاصم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی اہم شرائط اور تقاضے ہیں جن پر سعودی حکومت کو عمل کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے وہ باہمی یادداشت ہے جو ڈیڑھ سال قبل ماہِ رمضان میں صنعاء میں طے پایا تھا، جب سعودیوں نے یمن پر اپنی دس سالہ فوجی مہم اور محاصرے کی ناکامی تسلیم کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں فریقین نے مکمل طور پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن بعد میں سعودیوں نے امریکی ہدایات کے تحت اور طوفان الاقصیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ یمن کی قومی کونسل کے رکن نے مزید کہا کہ میرا کہنا ہے کہ آج سعودی عرب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ امن کا آپشن ابھی بھی موجود ہے، ورنہ ہمارے سامنے کئی متبادل موجود ہیں، جن میں دوبارہ جنگ کی طرف واپس جانا بھی شامل ہے، سعودی بخوبی جانتے ہیں کہ ہم انہیں اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جتنا ہم نے اب تک پہنچایا ہے۔

صہیونی جارحیت کے غزہ میں عارضی تعطل کے بعد، صنعا نے اب دوبارہ اپنے مطالبات کی پیروی شروع کر دی ہے، جو اس نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے امن معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیے تھے۔ یہ وہی تقاضے ہیں جن پر عمل درآمد طوفان الاقصیٰ کی جنگ اور یمن کی طرف سے غزہ کی حمایت میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں کے باعث مؤخر ہو گیا تھا۔ اب صنعاء ان شرائط و مفادات کے نفاذ کی تیاری کر رہا ہے جن پر اس نے پہلے امریکی دباؤ کے باعث عمل نہیں کیا تھا۔ یمن کی اعلیٰ قیادت کے بیانات سے واضح ہے یمن اسلامی اپنے وقار، عزت، حقوق اور غزہ کی نصرت پر کوئی سمجھوتہ کرنیکے لئے تیار نہیں۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن معاہدے کی طوفان الاقصی غزہ کی حمایت یمن کی اعلی کونسل کے کے ذریعے کے باعث کی نصرت کی طرف کے بعد میں کی کی جنگ کہا کہ جنگ کے یمن کے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل