دنیا کے مہنگے ترین موبائلز کی کیا خاص بات ہے؟ استعمال کون کر رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جب مہنگے گیجٹس کی بات کی جاتی ہے تو عموماً ہمارے ذہن میں ہائی اینڈ فلیگ شپ فون آتے ہیں لیکن ایک ایسی دنیا بھی ہے جہاں لگژری اسمارٹ فونز موجود ہیں جو فیچرز یا پرفارمنس سے زیادہ ڈیزائن، انفرادیت اور شاہانہ طرز پر توجہ دیتے ہیں۔
دنیا کے مہنگے ترین لگژری فون سونے، ہیروں اور دیگر نایاب مواد سے تیار کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ صرف ٹیک ڈیوائسز نہیں بلکہ دولت اور شان اور نمود و نمائش کی علامت بن جاتے ہیں۔
غیرملکی ویب سائٹ کے مطابق فیلکن سپرنووا آئی فوج 6 پنک ڈائمنڈ ایڈیشن دنیا کے سب سے مہنگے اسمارٹ فونز میں سے ایک ہے، جس کی قیمت حیران کن طور پر48.
اس موبائل کا باڈی پلاٹینم یا 18/24 قیراط خالص سونے سے بنایا گیا ہے اور اس کی اصل پہچان اس کے پچھلے حصے پر لگا بڑا گلابی ہیرا ہے جو ایپل کے لوگو کے نیچے جڑا ہوتا ہے۔
فیچرز عام آئی فون 6 جیسے ہی ہیں، جیسا کہ4.7 انچ ریٹینا ایچ ڈی ڈسپلے، ایپل اے 8 چپ اور 8 میگا پکسل کیمرہ، تاہم اس کے علاوہ اس لگژری ورژن میں خاص پلاٹینم کوٹنگ اور جدید سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں، جو اسے نہ صرف قیمتی بلکہ زیادہ محفوظ بھی بناتے ہیں۔
یہ لگژری فون بھارت سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی اہلیہ انیتا امبانی کے استعمال میں ہے۔
دنیا کے مہنگے ترین موبائل فون میں سے ایک گولڈوش لے ملین بھی ہے، جس کو ایک وقت میں گنیز ورلڈ ریکارڈز میں دنیا کا سب سے مہنگا فون قرار دیا گیا تھا، اس کی قیمت 1.3 ملین ڈالر (تقریباً 11.5 کروڑ بھارتی روپے)ہے۔
اس موبائل فون کو ڈیزائنر ایمانوئیل گوئیٹ نے تیار کیا تھا اور اس ماڈل کے صرف تین فون ہی بنائے گئے تھے، اس کا فریم 18 قیراط سفید سونے سے تیار کیا گیا ہے اور اسے VVS-1 گریڈ کے 120 قیراط ہیرے سے سجایا گیا ہے۔
فیچرز کے لحاظ سے یہ فون بہت سادہ ہے، 2 میگا پکسل کیمرہ، 2 جی بی اسٹوریج، بلوٹوتھ اور 2G کنیکٹیویٹی، اس فون کی اصل قیمت اس کی ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کے نایاب ڈیزائن اور قیمتی مواد میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق گریسو لگژور لاس ویگاس جیک پاٹ کی قیمت ایک ملین ڈالر (تقریباً 8.9 کروڑ بھارتی روپے) ہے، کلیکٹرز کے لیے ایک شاہ کار سمجھا جاتا ہے اور یہ فون بیک وقت لگژری، ہنرکاری اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
اس فون کا کیس 180 گرام خالص سونے سے بنایا گیا ہے اور اس پر 45.5 قیراط کے نایاب سیاہ ہیرے جڑے ہوئے ہیں، اس کے پچھلے حصے میں 200 سال پرانی افریقی بلیک ووڈ استعمال کی گئی ہے، جو دنیا کی سب سے نایاب اور مہنگی لکڑیوں میں سے ایک ہے۔
اس کے کیپیڈ کی ہر ایک کلید کرسٹل سفائر سے ہاتھ سے پالش اور لیزر اینگریو کی گئی ہے، جن کا مجموعی وزن32 قیراط ہے، اس خوبصورت فون کے صرف تین یونٹ تیار کیے گئے تھے اور ہر ایک کا منفرد سیریل نمبر ہے، جو اسے واقعی ایک نایاب اور بے مثال گیجیٹ بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دنیا کے ہے اور گیا ہے اور اس
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔