کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی: غیر ملکی طلبہ میں کمی، ماہرین کے لیے خصوصی راستہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کینیڈا نے اپنی تازہ ترین امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک میں غیر ملکی طلبہ کے داخلوں میں 25 سے 32 فیصد کمی کی جائے گی جب کہ دوسری جانب امریکا کے ایچ 1 بی ویزا ہولڈرز اور اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کو بلانے کے لیے خصوصی راستہ متعارف کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: بھارتی طلبا کی ویزا درخواستوں کو مسترد کرنے کی شرح میں 74 فیصد اضافے کی وجہ کیا بنی؟
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا گزشتہ چند سالوں میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کے بعد امیگریشن پر سخت کنٹرول نافذ کر رہا ہے اور ساتھ ہی امریکا میں امیگریشن قوانین کی سختیوں کے باعث اعلیٰ ہنرمند افراد کے لیے متبادل مواقع پیدا کر رہا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے 1.
بجٹ دستاویز میں کہا گیا کہ ان محققین کی مہارت عالمی مسابقت میں اضافہ کرے گی اور مستقبل کی معیشت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔
ایچ 1 بی ویزہ ہولڈرز کے لیے تیز رفتار داخلہ نظامکینیڈا جلد ہی ’ایکسلیریٹڈ پاتھ وے‘ کا آغاز کرے گا جو امریکا کےایچ 1 بی ویزا ہولڈرز کے لیے خصوصی طور پر بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: کینیڈا نے بنا دستاویزات کام کرنے والے غیرملکیوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا
یہ پروگرام امریکی پالیسیوں کے برعکس ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے H-1B ویزہ فیس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 100,000 امریکی ڈالر تک کر دیا ہے جس سے کئی ہنرمند تارکین وطن میں غیریقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔
امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاںبلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈا کی حکومت نے 2026 سے 2028 کے دوران سالانہ 3,80,000 مستقل رہائشیوں کو شامل کرنے کا ہدف رکھا ہے تاہم عارضی رہائشیوں کی تعداد کو 40 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
2026 میں یہ تعداد 3,85,000 جبکہ 2027 اور 2028 میں 3,70,000 تک محدود کی جائے گی۔
اسی طرح نئے اسٹڈی پرمٹس کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم کی جا رہی ہے۔ 2026 میں 1,55,000، جبکہ 2027 اور 2028 میں 1,50,000 تک محدود کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کینیڈا فری لانسرز کو ریموٹ ورک ویزا جاری کرے گا
یہ تعداد سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے مقرر کردہ 3,05,900 سالانہ ہدف سے تقریباً نصف ہے۔
پالیسی کے اثراتمالیاتی ادارے دیژاردن کے مطابق کم امیگریشن سے قلیل مدت میں اجرتوں میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ آجران کم دستیاب کارکنوں کو حاصل کرنے کے لیے زیادہ بولی لگائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس پالیسی سے آبادی میں اضافے کی رفتار کم ہو جائے گی جس سے کرایوں اور رہائشی لاگت میں کمی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کی ایچ ون بی نئی ویزا پالیسی، کونسے ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آبادی کی سست رفتار معیشت کی فی کس پیداوار میں کمی کو روکنے میں مدد دے گی اور رہائشی شعبے میں افراطِ زر کے دباؤ کو بھی کم کرے گی۔
حکومت کا نیا ہدفکینیڈا نے سنہ 2027 کے اختتام تک غیر مستقل رہائشیوں کا حصہ آبادی کے 5 فیصد سے کم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ فی الحال یہ تناسب 7.3 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کی نئی پالیسی: غیرملکی ہنرمندوں کے لیے ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، پاکستان پر کیا اثر پڑےگا؟
یونیورسٹیز کینیڈا نے حکومت کے اقدام کو پائیدار امیگریشن نظام کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی حکومت کے ٹیلنٹ اور اقتصادی اہداف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہونی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ایچ 1 بی ویزا کینیڈا کینیڈا کی نئی ویزا پالیسی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ایچ 1 بی ویزا کینیڈا کینیڈا کی نئی ویزا پالیسی کینیڈا نے ایچ 1 بی کرنے کا کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔