ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی، 80 ہزار نان امیگرنٹ ویزے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کر دیے ہیں، یہ فیصلہ ٹرمپ حکومت کی سخت امیگریشن پالیسی کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے تحت متعدد غیر ملکی طلبا، ورک ویزا ہولڈرز اور گرین کارڈ رکھنے والے افراد کو بھی امریکا بدر کیا جا چکا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق منسوخ کیے گئے ویزوں میں سے ہزاروں کیسز ڈرائیونگ انڈر دی انفلوئنس (نشے میں گاڑی چلانے)، چوری اور حملے جیسے جرائم سے متعلق ہیں جبکہ کچھ ویزے سوشل میڈیا پوسٹس اور سیاسی نظریات کی بنیاد پر بھی منسوخ کیے گئے۔
اہلکار کے مطابق 16 ہزار ویزے شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کے واقعات میں، 12 ہزار حملے کے کیسز میں اور 8 ہزار چوری کے الزامات پر منسوخ کیے گئے، جو مجموعی منسوخیوں کا تقریباً نصف حصہ بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال اگست میں تصدیق کی تھی کہ 6 ہزار سے زائد اسٹوڈنٹ ویزے قوانین کی خلاف ورزی اور قیام کی مدت سے زیادہ رہنے پر منسوخ کیے گئے، کچھ کیسز میں ان پر دہشت گردی یا انتہا پسندی کی حمایت جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
علاوہ ازیں، سوشل میڈیا پر سیاسی بیانات، خصوصاً اسرائیل پر تنقید یا فلسطین کی حمایت سے متعلق پوسٹس پر بھی متعدد افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سلسلے میں کہا کہ ہم نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ویزے منسوخ کیے، کیونکہ یہ افراد امریکی خارجہ پالیسی کے برخلاف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے یا اسرائیل پر تنقید کرنے والے طلبا اور گرین کارڈ ہولڈرز کو غیر دوستانہ ا حماس نواز سمجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منسوخ کیے گئے ویزے منسوخ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔