نیو ٹاؤن میں رکشا گینگ نے شہریوں کولوٹنے کانیاطریقہ ایجاد کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیو ٹاؤن میں اسٹریٹ کرائم کا نیا انداز سامنے آیا ہے جہاں رکشہ گینگ شہریوں کو با آسانی نشانہ بنا کر موبائل فون اور نقدی چھیننے لگا ہے۔ تازہ واقعہ میں مشرق سینٹر کے قریب چینل فائیو کے سیکورٹی گارڈ کو لوٹ لیا گیا۔ چار رکنی گروہ میں شامل ایک خاتون اور تین مرد ملزمان نے گارڈ کو رکشے میں بٹھایااور کچھ ہی فاصلے پر موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔ واردات صبح 10 بج کر 10 منٹ پر پیش آئی تاہم نیو ٹاؤن پولیس بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رکشہ گینگ انتہائی چالاکی سے شہریوں کو اعتماد میں لے کر رکشے میں بٹھاتا ہے اور تنہائی میں پہنچتے ہی لوٹ مار کر کے فرار ہوجاتا ہے۔ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رکشہ گینگ کے زیادہ تر کارندے سرجانی ٹائون سے نیپا چورنگی اور ملیر قائد آباد روٹ کے چلنے والے رکشوں میں موجود ہے اور وہ سہراب گوٹھ یا قائد آباد پر اندرون ملک اور اندرون سندھ سے آنے والے مسافروں کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے رکشہ اسٹینڈپر رکشوں کے ڈرائیورز کے لیے کسی قسم کا کوئی مکینزم نہیں بنایا ہوا ہے اور نہ ہی رکشوں کے ڈرائیورز کی اسکروٹنی کی جاتی ہے جبکہ پولیس گشت نہ ہونے کے باعث بھی علاقے میں اس گینگ کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ جب کہ علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دن دہاڑے لوٹ مار سے علاقے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔