خیبر پختونخوا پولیس نے لیزر سسٹم سے لیس ہائی ٹیک ڈرون تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب۔
خیبر پختونخوا پولیس نے لیزر سسٹم سے لیس ہائی ٹیک ڈرون تیار کرلیا۔ ڈرون پر نائٹ وژن سرویلنس کیمرے، ٹیئر گیس شیلز اور مارٹر گولے بھی نصب کیے جاسکتے ہیں۔
ڈرون تقریباً 10 کلو میٹر تک کے دائرے میں مسلسل ایک گھنٹے تک 36 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ڈرون پر نائٹ وژن اور حرارتی کیمروں سمیت ٹیئر گیس شیلز اور مارٹر گولے نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ڈرون کا وزن 55 کلوگرام ہے، لمبائی دو میٹر اور رفتار 36 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ ڈرون تقریباً ایک گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور ایک ہزار میٹر کی بلندی تک آپریشن کر سکتا ہے۔
سی پی او کے مطابق ڈرون 10 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں 6 عدد 61 ملی میٹر اور 4 عدد 81 ملی میٹر مارٹر لادنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لیزر سسٹم 30 سے 1800 میٹر تک فاصلے کی پیمائش کر سکتا ہے۔
سی پی او کے مطابق ڈرون دن اور رات دونوں اوقات میں آپریشن کر سکتا ہے اور یہ جدید آٹو انفارمیشن سسٹم سے بھی لیس ہے، جو پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی آپریشنز میں مدد فراہم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کر سکتا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔