پی آئی اے کا برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن 5 سال بعد بحال، مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
5 سال کی معطلی کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔ اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی براہِ راست پرواز آج دن 12 بج کر 5 منٹ پر روانہ ہوئی۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان سے برطانیہ کے لیے پروازوں کے دوبارہ آغاز کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں برطانوی ہائی کمشنر اور سیکرٹری دفاع سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے روٹس دوبارہ بحال ہونا ایک تاریخی موقع ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی آئی اے پر عائد پابندی سے حکومت کو مالی نقصان ہوا، تاہم ادارے کا معیار اب بہتر کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فلائٹ آپریشن کی بحالی میں برطانوی ہائی کمشنر کا کلیدی کردار رہا۔
پروازوں کا شیڈول
پی آئی اے کی پرواز پی کے 701 اسلام آباد سے ہفتے اور منگل کے روز مانچسٹر کے لیے روانہ ہوگی۔ بوئنگ 777 طیارے کے ذریعے 273 مسافر مانچسٹر جائیں گے۔
پرواز برطانوی وقت کے مطابق شام 5 بجے مانچسٹر پہنچے گی اور واپسی پر شام 7 بجے روانہ ہو کر صبح 7 بجے اسلام آباد پہنچے گی۔
پی آئی اے آئندہ مرحلے میں لندن کے لیے پروازوں کا آغاز بھی کرے گی۔
یاد رہے کہ برطانیہ اور یورپ نے پی آئی اے پر 2020 میں حفاظتی خدشات کے باعث پابندی عائد کی تھی، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پی آئی اے کے لیے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔