کرکٹر صہیب مقصود کو 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
فراڈ کا شکار ہونے والے قومی کرکٹر صہیب مقصود کو بالآخر 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں صہیب مقصود نے کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر داخہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میری گاڑی واپس دلوانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سچ کی جیت ہوتی ہے ، الحمدللّہ۔ صہیب مقصود آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں اس معاملے پر فوری کارروائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کے حکام گزشتہ تین چار دن سے مجھ سے مسلسل رابطے میں رہے اور انصاف کا حصول ممکن بنایا۔یاد رہے کہ صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی فروخت کرنے کے دوران بڑا مالی فراڈ ہوگیا تھا جس پر انہوں نے پنجاب حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک