کے پی میں اچھی وزارتوں کیلئے 70 کروڑ سے ایک ارب تک کا ریٹ طے ہو رہا : عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پی کے میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع ہوتے ہیں، مگر پہلے ہی ان کے حصے بانٹنے کی بولیاں لگ جاتی ہیں۔ 40 ارب روپے کے کوہستان کرپشن سکینڈل اس کی ایک بڑی مثال ہے، جو خیبر پی کے حکومت کے ’’شفافیت‘‘ کے دعووں کی قلعی کھولتی ہے۔ مریم نواز نے صرف ایک سال میں 80 ترقیاتی منصوبے شروع کیے جبکہ پنجاب حکومت 50 سے زائد منصوبے بالکل شفافیت کے ساتھ مکمل کر چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیرسٹر سیف کے بیان پر رد عمل میں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریم نواز کے کسی ایک بھی منصوبے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ پنجاب میں تمام ترقیاتی کام میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ خیبر پی کے میں نئی کابینہ کی تشکیل سے پہلے ہی وزارتوں کے لیے بولیاں لگ رہی ہیں۔ اچھی وزارتوں کے لیے ایک ارب سے 70 کروڑ روپے تک کے ریٹ طے کیے جا رہے ہیں، جو وہاں کی سیاسی ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جو لوگ پیسے دے کر وزیر بنیں گے، وہ کرپشن کیوں نہیں کریں گے؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔