data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کی جانب سے نویں جماعت سال 2025ء کے نتائج میں مجموعی نمبرز اور گریڈز ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین میٹرک بورڈ سے تین روز میں تحریری وضاحت طلب کرلی۔ وزیر جامعات کی جانب سے چیئرمین کراچی بورڈ کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے 23 اکتوبر کو نتائج کا اعلان کیا مگر نہ تو مجموعی نمبرز فراہم کیے گئے اور نہ ہی مضامین کے لحاظ سے تفصیلات اور گریڈز ظاہر کیے گئے۔ اس کے بجائے صرف کامیاب طلبہ کے رول نمبرز مختلف ذرائع سے جاری کیے گئے جو نتائج کے روایتی اور مستند طریقہ کار سے انحراف ہے۔ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ نمبرز اور گریڈز ظاہر نہ کیے جانے سے طلبہ و والدین میں بے چینی اور شکوک پیدا ہورہے ہیں جبکہ شفافیت کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کنٹرولر امتحانات اور آئی ٹی انچارج کو ہدایت کی کہ نتائج کے اعلان میں طریقہ کار سے انحراف کی تمام وجوہات اور حقائق تین دن میں تحریری طور پر پیش کیے جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن