data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ترک فلاحی تنظیم ٹکا (TIKA) کے وفد نے الخدمت کراچی اور الخدمت کی ناظم آباد میں قائم اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈائیگنوسٹک لیبارٹری کا دورہ کیا،وفد میں ٹکا (TIKA) کراچی کے کوآرڈی نیٹر مسٹر معشوق پوسا اور مس فاطمہ شامل تھیں۔ الخدمت کے دفتر آمد پر ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔اس موقع پر مہمانوں کو الخدمت کے فلاحی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، بعدازاں انہیں الخدمت کی اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈائیگنوسٹک لیبارٹری کا دورہ کروایا گیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت کراچی راشد قریشی، ڈائریکٹر ڈائیگنوسٹکس ڈاکٹر عظیم الدین،سینئر منیجر انوار عالم، سینئر منیجر سرفراز شیخ اورمنیجر آر ایم ڈی سید عمران احمد بھی موجود تھے۔وفد نے لیبارٹری کا معائنہ کیا،اس میں موجود جد ید طبی آلات کو دیکھا اور ان میں اپنی بھرپور دلچسپی سے اظہارکیا، ڈاکٹر عظیم الدین نے انہیں لیبارٹری میں دستیاب سروسز سے متعلق آگہی فراہم کی۔اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت انسانیت کی خدمت اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے کوشاں ہے،‘‘ہم (TIKA)کے وفد کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے الخدمت کے دفترکا دورہ کیا اور اس کے کاموں میں دلچسپی لی اور منصوبوں کو سراہا۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ تعلق فلاحی میدان میں بھی مضبوط تر ہو رہا ہے۔’’راشد قریشی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ الخدمت اور ٹکا (TIKA) مستقبل میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے خدمتِ انسانیت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں گے۔ٹکا (TIKA) کے نمائندوں نے الخدمت کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت پاکستان میں فلاحی خدمات کے فروغ میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور ایسے ادارے ہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ٹکا (TIKA)کے نمائندوں نے الخدمت کی انسانی خدمت کے منصوبوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے مستقبل میں باہمی تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لیبارٹری کا نے الخدمت الخدمت کی کا دورہ

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال