ٹرک کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت‘ 8سال بعد درخواست کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کچرا اٹھانے والے ٹرک کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت کا کیس،عدالت نے 8سال بعد درخواست کا فیصلہ سنادیا۔سینئر سول جج جنوبی عباس مہدی نے فیصلہ سناتے ہوئے ٹرک مالکان اور ڈرائیور کو چار کروڑ 27 لاکھ سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ،ہرجانہ مقتولین کے لواحقین کو ادا کیا جائے گا عدالت کاکہنا تھا کہ ہرجانے کی رقم 1 ماہ کے اندر ادا کی جائے، حادثہ نارتھ کراچی میں نومبر 2017 کو پیش آیا تھا درخواست گزار کا موقف تھا کہ مقتول عمر اور اْسکا دوست غیاث موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، ٹرک نے پیچھے ٹکر ماری جس کے نتیجے میں عمر جاں بحق جبکہ غیاث زخمی ہوا، لواحقین کی جانب سے ٹرک مالکان، کلفٹن کنوٹنمنٹ، نجی بینک، ڈرائیور سمیت چھ فریقین کو نامزد کیا تھا،عدالت نے ٹرک مالکان اور ڈرائیور کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے باقیوں کو بری الزمہ قرار دیا ملزمان کا موقف تھا کہ مدعا علیہان کے خلاف درج کرمنل مقدمے میں سیشن کورٹ اْنہیں بری کرچکی ہے، ایسا کوئی حادثہ ٹرک سے نہیں ہوا ،عدالت کاکہنا تھا کہ کرمنل مقدمہ کا فیصلہ سول سوٹ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا،مدعا علیہان نے تحریری طور پر حادثے کا انکار نہیں کیا، مدعا علیہان نے اچانک شواہد قلمبند کرتے وقت موقف بدل دیا، مدعا علیہان کی جانب سے درخواست گزار کے ہرجانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، رپورٹ سے ثابت ہوا کہ ٹرک کا فرنٹ حصہ ڈیمج تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مدعا علیہان تھا کہ
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت