امریکی اور چینی صدر کی ملاقات: ٹرمپ کا چین پر ٹیرف 10 فیصد کم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
امریکی اور چینی صدر کی ملاقات: ٹرمپ کا چین پر ٹیرف 10 فیصد کم کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 30 October, 2025 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر عائد ٹیرف کو 10 فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹیرف میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین پر عائد ٹیرف کو 57 سےکم ہو کر47 فیصد کردیا گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی، صدر شی سے ملاقات میں بہت سارے فیصلے کیے گئے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سویابین کی خریداری فوری طور پر شروع ہوجائےگی اور نایاب معدنیات کے معاملات میں مزید رکاوٹیں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور میرے دورہ چین کے بعد چینی صدر امریکا آئیں گے.
امریکی صدر نے کہا کہ ہم چینی صدر کے ساتھ یوکرین معاملے پر مل کر کام کرنے جارہے ہیں جبکہ تائیوان کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگرممالک ایٹمی تجربےکررہےہیں تو امریکا کے لیے بھی مناسب ہےکہ یہ تجربے بحال کرے اور اس کے لیے نیوکلیئر ٹیسٹنگ سائٹس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کو کامیاب بنا سکتے ہیں، چینی صدر چین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کو کامیاب بنا سکتے ہیں، چینی صدر پاکستان میزبانوں کی درخواست پر افغان طالبان کیساتھ دوبارہ مذاکرات پر رضامند علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک، بینک اکاؤنٹس منجمد، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا معاملہ، فہرست پر بھی پارٹی میں تضاد سامنے آگیا متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کیخلاف فرد جرم عائد شبلی فراز کی سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے ووٹنگCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر کا اعلان چینی صدر کرنے کا کہا کہ چین پر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔