سماجی ترقی کا خواب غزہ جنگ کو نظرانداز کرکے پورا نہیں ہوسکتا: آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :صدر مملکت آصف علی زرداری نے دوحہ قطر میں عالمی سماجی ترقیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام اور سماج میں برابری کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس سماجی انصاف، برابری اور انسانی احترام کے اصولوں کی اجتماعی خواہش کا مظہر ہے، پاکستان ان اصولوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ایسی دنیا دیکھنے کا خواہاں ہے جہاں غربت کا خاتمہ ہو اور تمام لوگوں کو باعزت روزگار کے مواقع ملیں۔
آئی سی سی سہ ماہی اجلاس کا آغاز آج سے دبئی میں ہو گا
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان افراد کو پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت دینے کا حامی ہے، دنیا میں انسانی حقوق کا احترام اور برابری یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا بھر میں سماجی تحفظ کے بہترین پروگرام کے طور پر سراہا گیا، ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت دینے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پانی سب کا بنیاد حق ہے، پاکستان کو سرحد پار سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرے کا سامنا ہے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، کروڑوں پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنے کے اقدامات کامیاب نہیں ہوں گے۔
سال 2025 کا روشن ترین سپر مون کل رات آسمان پر نمودار ہوگا
انہوں نے کہا کہ دوحہ اعلامیے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برابری، احترام اور ہمدردی کے اصولوں کے گرد اکٹھا ہونا پڑے گا، ہر بچے کو تعلیم اور ہر ماں کو صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سماجی ترقی کا خواب غزہ میں نسل کشی اور بڑے پیمانے پر قحط کو نظرانداز کرکے پورا نہیں ہوسکتا۔ عالمی برادری کو یقینی بنانا چاہیے کہ حالیہ جنگ بندی مستقل امن اور انصاف پر منتج ہو۔ فلسطین اور کشمیر کے عوام کا مسئلہ ایک سکے کے دو رُخ ہیں، ان تنازعات کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے سے ہوگا۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ ۔منگل 04نومبر ، 2025
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔