Juraat:
2026-06-03@02:44:53 GMT

عزیزآباد میں زمین پر رکھے بوروں سے گٹکے ماوے کی فروخت

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

عزیزآباد میں زمین پر رکھے بوروں سے گٹکے ماوے کی فروخت

طاہر عرف بوبی کے کارندے کی کھلے عام بوروں میں گٹکا ماوا فروخت کی ویڈیو موصول
تھانہ عزیزآباد ایس ایچ او سے ڈیلر کے معاملات طے ’آؤ آؤ گٹکا ماوا لے لو‘ کی صدائیں

(رپوٹ/ ایم جے کے )تھانہ عزیزآباد کیبن کے علاوہ اب زمین پر رکھے بوروں میں بھی گٹکے ماوے کی فروخت ہوگی، کراچی حلیم کے سامنے والی گلی میں طاہر عرف بوبی کے کارندے کی کھلے عام بوروں میں گٹکا ماوا فروخت کی ویڈیو موصول، تھانہ عزیزآباد ایس ایچ او سے ڈیلر طاہر عرف بوبی کے معاملات طے ہر طرف گٹکا ماوا کی سپلائی و فروخت جاری ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ عزیزآباد کی حدود میں اول نمبر سماج دشمن منشیات و گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کا گٹکا ماوا کا مال کھلے عام سپلائی اور فروخت جاری ہے ، سماج دشمن ڈیلر طاہر عرف بوبی کا خاص کرندہ گٹکا ماوا فروش آصف 1000روپے اجرت پر کراچی حلیم کے سامنے والی گلی میں کیبن پر نہیں بلکہ زمین پر گٹکا ماوا سے بھرے بورے رکھ کر گٹکا ماوا کی فروخت کر رہا ہے آوازیں لگا لگا کر جیسے کوئی سبزی، فروٹ یا کوئی خاص چیز فروخت کر رہا ہو ” آؤ آؤ گٹکا ماوا لے لو” علاقہ عزیزآباد اور باہر سے آئے افراد آصف نامی لڑکے سے گٹکا ماوا خرید رہے ہیں جس کی ویڈیو نمائندہ جرأت کو موصول ہوئی، یہ آصف نامی منشیات فروش اتنی دیدہ دلیری سے گٹکا ماوا زمین پر رکھے بوروں میں بیچ رہا ہے جسے پابندی ختم ہوگئی شاید عزیزآباد میں ایسا ہی ہوگیا ہے جب سے ایس ایچ او وقار قیصر نے عزیزآباد تھانے کا چارج سنبھالا تب سے علاقہ عزیزآباد میں جگہ جگہ زہر نما گٹکا ماوا فروخت ہو رہے ہیں، علاقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سماج دشمن عناصر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کا ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر سے ہفتہ لاکھوں روپے کے عوض معاملات طے ہوگئے ہیں اور یہ ہفتہ ایس ایچ او کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب کے ذریعے ایس ایچ او عزیزآباد تک پہنچتا ہے اسکے علاوہ گٹکا ماوا فروش عمیر عرف ببلو سے بھی ہفتہ وار معاملات طے ہو گئے ہیں۔ پچھلے ماہ اسپیشل برانچ کی کرپٹ پولیس افسران، اہلکاروں اور بیٹروں کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ آئی جی سندھ کو ارسال کی گئی اس لسٹ میں عزیزآباد ایس ایچ او وقار قیصر کا 99 نمبر ہے ، گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی اپنے کارخانے میں گٹکا ماوا بنوا کر عزیزآباد حسین آباد میں 12 سے 15 کیبنوں پر تھانے کی پیچھے والی گلی، مزیدار حلیم اور اس کے سامنے والی گلی، کتیانہ ہسپتال، جماعت خانہ اور دیگر جگہوں پر اپنے کارندوں جن میں جواد، آصف نیاپو، دانیال مالا، عمران کاکا، شاہریب اور عدیل شامل ہیں ان سے سپلائی اور فروخت کھلے عام کروا رہا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل کی جانب سے ثبوت (ویڈیو، تصاویر) اور جگہ کی نشاندہی کے باوجود بھی ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اس کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب اور عزیزآباد کا سب سے بڑا سماج دشمن عناصر منشیات و گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کے خلاف کاروائی نہیں کر سکے اس حوالے سے نمائندہ جرأت نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کو واٹس ایپ پر موقف دریافت کرنے کے لیے میسج کیا مگر ان کا موقف تا دم تحریرنہیں آیا، سندھ پولیس محکمے خاص کر آئی جی سندھ کی بنائی گئی ٹاسک فورس اور سینٹرل پولیس افسران پر بہت بڑا سوالیہ نشان اب بھی موجود ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: طاہر عرف بوبی کے تھانہ عزیزآباد معاملات طے ایس ایچ او والی گلی کھلے عام

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا