شیخ وقاص کے وارنٹ جاری، عمرایوب، زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
دونوں رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کر کے رپورٹ پیش کی جائے،تمام فریقین کوآئندہ سماعت کیلئے طلب کرلیا
انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 26 نومبر احتجاج سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی
اے ٹی سی کی جانب سے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے سابق قائد حزب اختلاف عمرایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی۔دوران سماعت عدالت نے شیخ وقاص کے وارنٹ جاری کر دیٔے اور پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا بھی حکم دیا، عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دونوں رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔بعدازاں عدالت نے تمام فریقین کو آئندہ سماعت کے لیے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی 3 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاسپورٹ بلاک کر پی ٹی ا ئی رہنماو ں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔