الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیا۔
کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد کی لوکل گورنمنٹ کی معیاد 14 فروری 2021ء کو ختم ہوئی، مگر انتخابات بارہا مؤخر ہوتے رہے، آئین کے آرٹیکلز 140-A، 219 اور 218(3) کے تحت انتخابات کرانا لازم تھا۔
کمیشن نے 5 بار حلقہ بندیاں اور 3 بار الیکشن شیڈول جاری کیا، مگر عمل مکمل نہ ہوسکا، 13 نومبر 2025ء کو سماعت ہوئی اور 17 نومبر 2025ء کو انتخابات کرانے کا فیصلہ دیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 15(2) کی ترمیم کو آئین و قانون (آرٹیکلز 218(3)، 140-A، 220، 219، 222) کے خلاف قرار دیا۔
الیکشنز ایکٹ 2017ء کی دفعات 50، 219، 224 کے تحت ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کی تقرری کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ انتخابی عملہ کمیشن اپنے افسران، عدلیہ یا انتظامیہ میں سے تعینات کرے گا، سیکریٹری یونین کونسل سرکاری افسر کی تعریف پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے انتخابی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات انہی افسران کے ذریعے ہوں گے جنہیں الیکشن کمیشن باقاعدہ نوٹیفائی کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔