غزہ میں طویل دُکھوں کے بعد خوشی کا موقع؛ 54 جوڑوں کی اجتماعی شادی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک)ہتباہی اور جنگ کے سائے میں گھرے غزہ میں طویل دکھوں کے بعد بالآخر خوشی کا ایک منفرد موقع سامنے آیا جہاں 54 جوڑے اجتماعی شادی کی ایک بڑی تقریب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
اس تقریب میں 21 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی جو غزہ کے عوام کے لیے امید اور حوصلے کی علامت بن گئی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اجتماعی شادی غزہ کے علاقے خان یونس میں منعقد ہوئی، جس میں شامل دلہنوں نے تباہ شدہ عمارتوں کے سائے تلے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اپنی نئی زندگی کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ ان دلہنوں میں 27 سالہ ایمان حسن لَوا بھی شامل تھیں جنہیں راستے میں موجود شہری ہاتھ ہلا کر مبارک باد دیتے رہے۔
ایمان حسن نے اس موقع پر کہا کہ سب کچھ ہو جانے کے باوجود ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے، اللہ نے چاہا تو اس جنگ کا خاتمہ ہو گا۔
یہ اجتماعی شادی الفارس الشاہیم نامی امدادی ادارے کی مالی معاونت سے منعقد کی گئی، جو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے کام کرتا ہے۔ ادارے نے نہ صرف تقریب کا اہتمام کیا بلکہ نوبیاہتا جوڑوں کو نئی زندگی شروع کرنے میں مدد کے لیے نقد سلامی اور ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق 54 منتخب جوڑوں کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 2 ہزار 651 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
تقریب میں فلسطینی روایتی دبکہ رقص، لوک گیت اور موسیقی نے ماحول کو خوشیوں سے بھر دیا جبکہ فضا میں جنگ کے غم اور نئی امیدوں کا امتزاج نمایاں تھا۔
درجنوں فلسطینی جوڑوں نے ان مشکل حالات کے باوجود زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا جو غزہ کے عوام کے حوصلے اور ثابت قدمی کی ایک روشن مثال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔