سازشی عناصر اب بھی عمران خان کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں: وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سیالکوٹ (نامہ نگار+آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کچھ سازشی عناصر اب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں، فیض حمید ملک کے ساتھ نہایت بھیانک کھیل کھیلتے رہے، فیض حمید اور عمران خان نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی ان کو انجام تک پہچانا ضروری ہے، نواز شریف کو ہٹانے اور بانی کو لانے کے پراجیکٹ انچارج فیض حمید کے خلاف مزید قانونی کارروائی ہوگی۔۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا فیض حمید بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے انچارج تھے، فیض حمید جب کور کمانڈر پشاور تھے اس وقت انہوں نے عمران خان کی سیاست کو تقویت پہنچائی، دھاندلی کے ذریعے فیض حمید کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا گیا، پروجیکٹ بانی پی ٹی آئی کو لانے کے لیے اور بھی شخصیات کام کرتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ 4 سال بانی پی ٹی آئی نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، فیض اور بانی پی ٹی آئی اس کے ذمہ دار ہیں، عوام جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے کتنا ڈیلیور کیا، ان کے دور میں پارلیمنٹ کو آئی ایس آئی کا ذیلی ادارہ بنا دیاگیا تھا، فیض حمید کا پراجیکٹ آہستہ آہستہ بے نقاب ہونا شروع ہو گیا، بانی پی ٹی آئی کیلئے 9 مئی برپا کیا گیا، اس کے پیچھے بھی فیض کا دماغ تھا، پلاننگ اسی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو ہٹانے اور بانی کو لانے کے پراجیکٹ کے انچارج فیض حمید تھے، فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی نے سازش کرکے ملک کو تباہ کیا، انہوں نے اپنے دور میں تمام مخالفین کو جیل میں ڈالا، دھمکیاں، قید اور سب کچھ فیض حمید کے کہنے پر ہوتا تھا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا تمام مخالفین کو فیض حمید کے ذریعے جیل میں ڈالا گیا، فیض حمید ملک کے ساتھ نہایت بھیانک کھیل کھیلتے رہے، تمام سازشوں کے پیچھیفیض حمید تھا، 9 مئی کی تباہی بھی فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کی تھی، فیض اور بانی پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ قائم رہتا تو پتا نہیں کتنا نقصان ہو جاتا، ان لوگوں نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی ہے ان کو انجام تک پہچانا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا احتساب ان کا بھی ہوگا جو بیورو کریسی سمیت دیگر اداروں میں چھپے ہوئے ہیں، فوج نے خود فیض حمید کا ٹرائل کیا، فیض حمید کو 15 ماہ کے عرصے میں مقدمہ چلا کر سزا سنائی گئی۔فیض حمید کو15 ماہ کارروائی چلا کر سزا سنائی گئی، مزید قانونی کارروائی کی جائے گی، جنرل فیض اب جنرل نہیں رہے، ان سے جنرل کا ٹائٹل بھی چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات کی مثال نہیں ملتی، فوج کے ادارے نے شفافیت سے سابق آئی ایس آئی کے سربراہ کو سزا سنائی ہے، ابھی اور بھی چارجز ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، بانی پی ٹی آئی کا پراجیکٹ 10سے12سال پہلے شروع کیاگیا، اس پروجیکٹ پر عمل درآمد فیض حمید کی سربراہی میں ہوا۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف ملک کو برے حالات سے نکال کر باہر لائے، فوجی قیادت نے ملک کو برے حالات سے نکالنے کیلئے حکومت کی مدد کی، پی ٹی آئی صوبائی حکومت کہتی کہ طالبان سے مذاکرات کرو، ان دہشتگردوں کے ہاتھوں پر ہمارے جوانوں کا خون ہے، یہ کہتے ہیں مذاکرات کرو۔ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کالعدم ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتی ہے، پی ٹی آئی ہی طالبان کو واپس لائی، انہیں پاکستان میں بسایا۔علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ سنٹر آف ایکسیلنس دانش گرلز سکول سیالکوٹ میں گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والی طالبات کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کو اپنی قومی زبان میں بات کرنا سیکھائیں کیونکہ تعلیم کا اہم مقصد نوجوان نسل کا اپنی شناخت دینا بھی ہوتا ہے جو کہ صرف اپنی زبان کی مدد ہی سے ممکن ہو سکتا ہے۔ تقریب کے دوران گوجرانوالہ بورڈ میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والی طالبات میں انعامات اور اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ طالبات نے مختلف موضوعات پر خوبصورت ٹیبلوز بھی پیش کیے جنہیں شرکاء نے بھرپور سراہا۔آخر میں وزیر دفاع نے طالبات کی محنت، اساتذہ کی کاوشوں اور انتظامیہ کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے طالبات کے روشن مستقبل کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور بانی پی ٹی ا ئی بانی پی ٹی آئی انہوں نے کہا وزیر دفاع فیض حمید کے ساتھ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں