وزیر معدنیات اور سرکاری حکام خوفناک طیارہ حادثے میں بال بال بچ گئے؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
افریقی ملک کانگو میں وزیرِ معدنیات اور اعلیٰ سرکاری حکام کو لے جانا والا چارٹرڈ طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چارٹرڈ طیارے میں وزیر معدنیات لوئس واٹم کبامبا اور اہم ترین 20 سرکاری حکام موجود تھے۔
طیارے نے کانگو کے دارالحکومت کنشاسا سے اُڑان بھری تھی اور لوالابا صوبے پہنچا تاہم کولوویزی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے سے پھسل گیا۔
افسران کی دوڑیں لگ گئیں۔ ریسکیو ٹیموں اور ایمبولینس کو طلب کیا گیا۔ دیگر پروازیں معطل کردی گئیں۔
View this post on Instagramدیکھتے ہی دیکھتے طیارے کے عقبی حصے میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی جس نے طیارے کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیاہ دھواں بادلوں کو چھو رہے تھے۔
طیارے کے عملے نے مسافروں کو بحفاظت نکالا۔ وزیر معدنیات سمیت تمام مسافر محفوظ ہیں جنھیں طبی معائنے کے بعد جانے کی اجازت دیدی گئی۔
فائربریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن طیارہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔