کراچی کی سڑکیں، ناقص کام کی گواہی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیر محمد خان
بیس ملین تین لاکھ (سرکاری اعدادو شمار) کی آبادی والا شہر جہاں 17 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی زیادہ تر واحد سیاسی جماعت حکمرانی رہی اور تاحال ہے، کراچی کی میونسپلٹی کی ذمے دار اس عرصے میں تقریباً متحدہ قومی مومنٹ 12 سال رہی مگر اس کی سڑکیں دیکھ کر کوئی یہی کہہ سکتا کہ اسے عروس البلاد (شہروںکی دلہن) کہہ کر اس کا مذاق اُڑایا گیا ہے یا جس نے کہا ہے اس نے مذاق کیا ہے، اتنی طویل حکومتوں، بلدیاتی حکومتوں کے باوجود شہر کی 95 فی صد سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں، اگر اس میں بارش ہوجائے، عیدالاضحیٰ آجائے تو سونے پر سہاگہ ہے کھنڈر نما سڑکوں پر ٹریفک کا ازدحام انسان کو رونے پر مجبور کردیتا ہے یہ شہر ہے جو پاکستان کے ٹوٹل ریونیو کا 53,38 فی صد فراہم کرتا ہے جو پاکستان جی ڈی پی کا 25 فی صد فراہم کرتا ہے، عوام پر ٹیکسوں میں کوئی چھوٹ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں ٹریفک کی بے ترتیبی نے سارا نظام تلپٹ کررکھا ہے اور یہ بے ترتیبی سڑکوں کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے ہے، نئی سڑکیں بنانے کے لیے سڑکیں کھود دی جاتی ہیں اور ایک عرصہ اپنی مرمت کا انتظار کرتی، جب مرمت کی قسمت جاگتی ہے تو ناقص سامان استعمال کرتے ہوئے ایسا انتظام کیا جاتا ہے کہ وہ سڑکیں ایک بارش کی مہمان ہوں، سڑکیں بنانے کے لیے توڑ پھوڑ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی بجٹ آنے والا ہو۔ پاکستان میں کرپشن نہ ہو تو یہ ملک جنت ہے سڑکوںکی ممکنہ مرمت کے بغیر اب ای چالان شروع ہوگئے ہیں اپنی تنخواہوں سے زیادہ سڑک پر کمانے والے ٹریفک پولیس اہلکار شور مچا رہے کہ ہمارا گزارہ نہیں، سندھ حکومت کا اقدام جائز ہے ہر حکومت اپنے علاقے میں تمام تر سہولت پہنچانے کے بعد ٹیکس اور تادیبی کارروائی میں حق جانب مگر کھنڈر نما سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین کا لاگو کردینا ایک زیادتی ہے۔ ٹریفک اہل کار سڑک پر رقم لینے کے مجاز اس لیے ہوتے ہیں چونکہ وہ رش والے علاقوں جیسے صدر کا علاقہ، الیکٹرونک مارکیٹ کا علاقہ وہاں کی ’’پیدا‘‘ سے رقم کی تقسیم کے ڈانڈے اوپر تک ملتے ہیں، میں کراچی میں رہا ہوں صحافتی ذمے داریوں میں مجھے علم ہے زیادہ ’’پیدا‘‘ والے علاقوں میں ڈیوٹیاں صرف ایسے ہی نہیں لگتیں، ڈیوٹی پر مامور کرنے والے سے علاقہ ’’خریدنا‘‘ پڑتا ہے اس کا اظہار خود ایک سندھ کے سابق وزیر مجھ سے کر چکے ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے انہوں نے کام بھی کیا ہوگا مگر یہ کام ہمارے سسٹم میں آسان نہیںہے ایک سابقہ گورنر کے بھائی کینیڈا سے خاص طور پر تشریف لاتے تھے اور مصروف علاقوں میں جہاں پیدا زیادہ کے توقع ہوتی ہے وہ علاقے فروخت کرکے واپس کینیڈا چلے جاتے اب شورو غل ہے کہ ای چالان کی وجہ سے بھاری جرمانے آرہے ہیں، لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں۔
کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی سادہ سی مثال ای چالان کے پہلے دن کے ابتدائی 6 گھنٹوں کی سرکاری کارروائی سے سامنے آچکی ہے جس میں 2 ہزار 662 الیکٹرونک چالان ہوئے جو مجموعی طور پر سوا کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے تھے۔ حکومت اور اس کے ذیلی اداروں کا شہریوں کو قوانین کا پابند بنانا ایک اچھی بات ہے جس کی پذیرائی کی جانی چاہیے لیکن یہ پذیرائی اسی صورت ممکن ہے جب شہریوں کو برابری کی سطح پر حقوق حاصل ہوں، سندھ حکومت اور اس کے محکمہ پولیس نے الیکٹرونک ٹریفک چالان کے ضمن میں کراچی کے شہریوں کے ساتھ جو امتیاز برتا ہے اس کی اندرون ملک سے بیرون ملک تک ہر سطح پر مخالفت نہیں بلکہ مذمت کی جارہی ہے اور تقریباً سب ہی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جس شہر کا کوئی انفرا اسٹرکچر ہی نہ ہو وہاں قوانین کے نام پر مہنگے ترین چالان کا اجرا کیا جانا شہریوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ دوسری جانب فیک نیوز والے عوام کو صوبائی تعصب کی طرف لے جارہے ہیں کہ یہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک ہے جب کہ پنجاب میں ٹریفک جرمانے عوام کی دسترس سے باہر نہیں وہاں معمولی جرمانے ہیں یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے جیسے پہلے جرمانے کم تھے ہر صوبے میں اسی طرح پنجاب میں بھی تھے اب وہاں بھی جرمانوں کی شرح بڑھادی گئی ہے یہ ایک الگ بات ہے کہ حکومت نے سڑکوں کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے آرام دہ بنا رکھا ہے ایسے میں ان کا ٹریفک جرمانوں کو بڑھا دینا ناقابل اعتراض ہے کراچی میں ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے، سگنل توڑنے کی صورت میں کراچی میں جرمانہ 5 ہزار روپے اوور اسپیڈنگ پر کراچی میں 5 ہزار روپے ون وے کی خلاف ورزی میں کراچی میں اس پر 25 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے، صوبہ سرحد، بلوچستان نے بھی ٹریفک جرمانوں کی رقم میں اضافہ کردیا ہے ان جرمانوں کا مطلب شہریوں کی جان کی حفاظت ہے۔ کراچی میں تقریباً روزانہ ہی نوجوان اور خواتین، بچے، بوڑھے آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے نشے میں دھت ڈرائیورز کے ہاتھوں بڑے بڑے ٹرکس سے کچل دیے جاتے ہیں، مالکان اشرافیہ ہیں اس لیے شاید ہی کسی جان لیوا حادثے کا ذمے دار ڈرائیور قانون کی گرفت میں آتا ہے لوگوں کے تحفظات ہرگز غلط نہیں، صرف کراچی کی چیدہ سڑکوں پر کیمرے لگا کر پورے شہر کو تذبذب، پریشانی اور ہیجان میں مبتلا کرنا انہیں خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے، ستم یہ بھی ہے کہ ’’بلاول ہائوس‘‘ کے قریب کیمرے ہی دو دن میں چوری ہو گئے ’’چالان ہوگا نہ جرمانہ‘‘۔
کراچی کے شہریوں کو شکایت ہے کہ سسٹم کا اطلاق صرف کراچی کے شہریوں پر ہی کیوں کیا گیا؟ جب کہ قانون سازی پورے صوبے کے لیے کی گئی ہے اگر قانون ہے تو پورے صوبے کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ یہ شکایت درست کہ دیگر صوبوں میں سنگین خلاف ورزیوں کے جرمانے سندھ کے مقابلے میں کم ہیں مگر اتنے کم نہیں جتنا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ بسوں اور ڈمپرز کے مالکان مراعات یافتہ لوگ ہیں وہ عدالت چلے گئے ہیں کہ یہ جرمانے زیادہ ہیں عدالت نے ان کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ- پاکستان سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جسے انہوں نے شہر کی پہلے سے مشکلات کا شکار آبادی پر ’’غیر منصفانہ بوجھ‘‘ قرار دیا۔ وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں جب شہری انتظام ان کے پاس 12سال رہا تو انہوں نے کون سی سڑکیں درست بنائیں یا پائیداری سے سڑکیں تعمیر کیں انہوں نے جرمانے اور خرابی کے نظام کو ’’حکومتی نااہلی اور بدعنوانی کا براہ راست نتیجہ‘‘ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’کراچی کی سڑکیں گڑھوں سے بھری پڑی ہیں، ٹریفک سگنل کام نہیں کرتے اور پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، ایسے حالات میں شہریوں پر جرمانہ عائد کرنا نہ صرف ناانصافی ہے، بلکہ یہ حکومت کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ایم کیوایم کے اس بیان پر مجھے خواجہ آصف کا جملہ یاد آگیا، (کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے) سگنل توڑنا، تیز رفتاری اور ون وہیلنگ جیسی خلاف ورزیاں معمولی جرم نہیں بلکہ جان لیوا حرکتیں ہیں جو ڈرائیوروں اور دیگر دونوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ جب تک سڑکیں بہتر نہ ہو، ترقیاتی اخراجات کا استعمال بہتر نہ ہو جرمانے کم کرنا ضروری ہے۔
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں کراچی کراچی میں ہزار روپے کراچی کے سڑکوں پر انہوں نے کراچی کی ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔