راولپنڈی پولیس کی لیڈی کانسٹیبلز کو بڑا اعزاز حاصل
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: راولپنڈی کی لیڈی کانسٹیبلز نے پولیس کالج لاہور میں 17ویں لیڈی ریکروٹ کورس میں نمایاں پوزیشنز حاصل کر لیں۔
سی پی او سید خالدہمدانی کی جانب سے بیسک ریکروٹ کورس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی لیڈی کانسٹیبلز کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
سی پی او نے لیڈی کانسٹیبلز فروہ ریشم، بشریٰ انتظار اور علشبہ فاروق کو تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعام سے نوازا۔
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
لیڈی کانسٹیبل فروہ ریشم نے نالج اینڈ لائف، اسلامک ایتھکس، اسٹریس منیجمنٹ، اینگر منیجمنٹ، پرسنل گرومنگ، کریکٹر بلڈنگ اور ڈرائیونگ اسکلز کے مضامین میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔
لیڈی کانسٹیبل بشریٰ انتظار نے تعزیزات پاکستان، ضابطہ فوجداری، اسلامک لاء، لوکل اینڈ اسپیشل لاء اور قانون شہادت کے مضامین میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔
لیڈی کانسٹیبل علشبہ فاروق نے تعزیزات پاکستان، ضابطہ فوجداری، اسلامک لاء، لوکل اینڈ اسپیشل لاء اور قانون شہادت کے مضامین میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔
پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ
سی پی او کا کہنا تھا کہ خواتین پولیس سمیت ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے لیڈی کانسٹیبلز کو مزید محنت اور مستعدی سے فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لیڈی کانسٹیبلز پوزیشن حاصل
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔