گلگت، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے وزیر بلدیات حاجی عبد الحمید پیپلزپارٹی میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
گلگت میں صدر زرداری سے ملاقات میں حاجی عبد الحمید نے پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرکا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کو اپنا مشن بنایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے وزیر بلدیات حاجی عبد الحمید نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ گلگت میں صدر زرداری سے ملاقات میں حاجی عبد الحمید نے پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرکا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کو اپنا مشن بنایا ہے۔ پارٹی میں شمولیت کی دعوت انہیں امجد ایڈووکیٹ، سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ اور انجینئر اسماعیل نے بارہا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصشل ان کا دل پہلے ہی سے پیپلز پارٹی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ خیال رہے کہ حاجی عبد الحمید نے 2020ء کے عام انتخابات میں گانچھے سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ بعد میں انہون ںے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور وزرات بھی مل گئی۔ خالد خورشید حکومت کے خاتمے کے بعد وہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا حصہ ن گئے اور دوبارہ کابینہ میں شامل ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حاجی عبد الحمید نے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔