اسلام آباد (این این آئی+خبر نگار خصوصی)نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو پاکستان کی پہلی گوگل کروم بْک اسمبلی لائن کا افتتاح کیا اور اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جس سے ڈیجیٹل آلات کی رسائی عام شہریوں کے لیے مزید آسان ہو جائے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم ایک تاریخی موقع کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جب ہم گوگل اور پاکستان کے درمیان بیش قیمت شراکت داری کا جشن منا رہے ہیں۔انہوں نے اس اقدام کو ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کروم بْک کی مقامی اسمبلی سے ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی خاص طور پر تعلیمی شعبے میں سستی اور جامع ہو جائے گی۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسمبلی لائن کے قیام کی بڑی اقتصادی اہمیت ہے، کیوں کہ یہ روزگار کے مواقع، سپلائی چین کی ترقی اور مستقبل کی ٹیکنالوجی برآمدات کی بنیاد رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت گوگل اور پاکستان ملک بھر میں ایک لاکھ (ایک لاکھ) ڈیولپرز کی تربیت کے لیے تعاون کریں گے اور گیمنگ اور اسٹارٹ اَپ صنعتوں کے لیے خصوصی پروگرامز تیار کیے جائیں گے۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم مل کر مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی حل بھی متعارف کرائیں گے، جیسے پبلک سیفٹی کے لیے اینڈرائیڈ سروسز، اور ایک لاکھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ پاکستانیوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تربیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مہارتیں حاصل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں اپنا دفتر قائم کرنا صرف علامتی نہیں بلکہ قومی فخر کا لمحہ اور پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت، اختراعی نظام اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک اسٹریٹجک سنگِ میل ہے۔اسحق ڈار نے کہا کہ گوگل کی مقامی موجودگی سے وہ پاکستان کے ڈیولپرز، اسٹارٹ اَپس اور کاروباری ماہرین کے زیادہ قریب آ جائے گا، جس سے براہِ راست تعاون، استعداد میں اضافہ اور عالمی پلیٹ فارمز تک بہتر رسائی ممکن ہوگی۔ اسلام آباد سے خبر نگار خصوصی کے مطابق اسحاق ڈار نے ڈسکوز کی نجکاری کی سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی ڈسکوز کو نجکاری کے لیے تیار کرنے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار