عام شہریوں کیلئے ڈیجیٹل آلات تک رسائی مزید آسان ہوجائے گی : نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد (این این آئی+خبر نگار خصوصی)نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو پاکستان کی پہلی گوگل کروم بْک اسمبلی لائن کا افتتاح کیا اور اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جس سے ڈیجیٹل آلات کی رسائی عام شہریوں کے لیے مزید آسان ہو جائے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم ایک تاریخی موقع کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جب ہم گوگل اور پاکستان کے درمیان بیش قیمت شراکت داری کا جشن منا رہے ہیں۔انہوں نے اس اقدام کو ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کروم بْک کی مقامی اسمبلی سے ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی خاص طور پر تعلیمی شعبے میں سستی اور جامع ہو جائے گی۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسمبلی لائن کے قیام کی بڑی اقتصادی اہمیت ہے، کیوں کہ یہ روزگار کے مواقع، سپلائی چین کی ترقی اور مستقبل کی ٹیکنالوجی برآمدات کی بنیاد رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت گوگل اور پاکستان ملک بھر میں ایک لاکھ (ایک لاکھ) ڈیولپرز کی تربیت کے لیے تعاون کریں گے اور گیمنگ اور اسٹارٹ اَپ صنعتوں کے لیے خصوصی پروگرامز تیار کیے جائیں گے۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم مل کر مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی حل بھی متعارف کرائیں گے، جیسے پبلک سیفٹی کے لیے اینڈرائیڈ سروسز، اور ایک لاکھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ پاکستانیوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تربیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مہارتیں حاصل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں اپنا دفتر قائم کرنا صرف علامتی نہیں بلکہ قومی فخر کا لمحہ اور پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت، اختراعی نظام اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک اسٹریٹجک سنگِ میل ہے۔اسحق ڈار نے کہا کہ گوگل کی مقامی موجودگی سے وہ پاکستان کے ڈیولپرز، اسٹارٹ اَپس اور کاروباری ماہرین کے زیادہ قریب آ جائے گا، جس سے براہِ راست تعاون، استعداد میں اضافہ اور عالمی پلیٹ فارمز تک بہتر رسائی ممکن ہوگی۔ اسلام آباد سے خبر نگار خصوصی کے مطابق اسحاق ڈار نے ڈسکوز کی نجکاری کی سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی ڈسکوز کو نجکاری کے لیے تیار کرنے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :