چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے نے مینوفیکچررز اور خریداروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، شادی کا سیزن شروع ہونے کے باوجود سونے کے زیورات بنانے والوں کا کاروبار ٹھنڈا ہے لیکن ساتھ ہی بڑے بڑے برانڈز نے اپنی نظریں چاندی پر گاڑھ لی ہیں اور چاندی کے بسکٹس بنانا شروع ہوگئے ہیں۔
اس حوالے سے جانتے ہیں کہ سونے اور چاندی کا مستقبل کیا ہے؟
چئیرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچرر ایسوسی ایشن محمد ارشد نے وی نیوز کو بتایا کہ سونے کی قیمت کا اندازہ لگانا آسان کام نہیں، اس کا انحصار عالمی مارکیٹ پر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس میں گھر کے مالک کو باغیچے میں دبایا گیا 8 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا مل گیا
ان کا کہنا ہے کہ ایک امید تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر کے مابین ملاقات سے سونے کی قیمتیں نیچے آجائیں گی لیکن ایسا نہ ہوا کیوں کہ جہاں سب سوچ رہے تھے کہ چین کو ٹیرف میں 25 فیصد ریلیف مل جائے گا لیکن صرف 10 فیصد ہی ریلیف دیا گیا۔
محمد ارشد کے مطابق سونے کی اس قیمت پر کام کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگیا ہے، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سونے کی قیمت میں 200 یا 300 ڈالر کا اتار چڑھاؤ آیا ہو۔ کبھی 5 یا کبھی 10 ڈالر آجاتا تھا جو قابل برداشت تھا لیکن اب جو صورت حال ہے اس میں تو مینوفیکچرر اور خریدار پریشان ہیں کیوں کہ یہ شادیوں کا سیزن ہے اور اس سیزن میں سونے کی جیولری دینا ایک روایت ہوا کرتی تھی۔
محمد ارشد نے کہاکہ اب چاندی نے سونے کی جگہ لے لی ہے پہلے سونا جس ریٹ پر ملتا تھا اب سلور 6 ہزار روپے تولا ہو چکا ہے۔ آنے والا وقت نا صرف چاندی کا ہے بلکہ جیولری بھی چاندی میں منتقل ہو جائے گی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بہت سارے برانڈز نے سلور بسکٹ لانچ کردیے ہیں اور کچھ کرنے جا رہے ہیں۔
’معیار سب کا ایک جیسا ہے، اس وقت 10 تولے چاندی کی ڈیمانڈ زیادہ نہیں، جو 70 ہزار روپے تک مل رہا ہے جو عام آدمی کی پہنچ میں بھی ہے۔‘
مزید پڑھیں: راولپنڈی کے ایسے جیولرز جو آج بھی اپنے گاہکوں کو سستا سونا دے رہے ہیں
محمد ارشد چاندی کو سونے کا متبادل دیکھ رہے ہیں، ان کے مطابق 1500 روپے فی تولے سے سلور 6 ہزار روپے تولا تک آگیا ہے مستقبل میں سونے کی طرح چاندی کے زیورات بنائے جائیں گے۔ اس سے ہمارا شعبہ دوبارہ اٹھے گا اور کام پھر سے اچھا ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اتار چڑھاؤ چاندی سونا قیمتیں مستقبل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتار چڑھاؤ چاندی قیمتیں وی نیوز سونے کی قیمت
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔