کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )سندھ ہائی کورٹ نے آج کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کے الاٹیز کی آئینی پٹیشن کی سماعت کی۔ ہائیکورٹ کی ڈبل بینچ جسٹس محمد یوسف سعید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو پر مشتمل ہے، عدالت نے بورڈ آف ریونیو کے وکیل سے کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی سروے رپورٹ کے بارے میں استفسار کیا تو بورڈ آف ریونیو کے وکیل نے اس کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ممبر ریونیو بورڈ کو 11 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے سماعت کے دوران سرکاری وکلا کی سرزنش کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی سروے رپورٹ 13 ماہ گزرنے کے بعد بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس پر بورڈ آف ریونیو کے وکیل نے مختلف عذر پیش کیے جنہیں عدالت نے رد کر د۔یا اس موقع پر الاٹیز کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ میونسپل کمشنر اور کے ایم سی کے وکلا بھی آج عدالت میں موجود نہیں انہیں بھی طلب کیا جائے الاٹیز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ زمین کے ایم سی نے 1993 میں بیروزگار نوجوانوں کو الاٹ کی تھی جس کیلیے ان سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے مگر 33 سال گزرنے کے بعد بھی 2334 الاٹیز پلاٹوں سے محروم ہیں اس موقع پر پٹیشنر اور کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمود حامد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے الاٹیز اپنے پلاٹوں کے حصول اور لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔