ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں عوام شدید معاشی دباو?، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ایسے میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام عوام کو مایوسی سے نکال کر اجتماعی جدوجہد کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرے گا۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوام میں درست قیادت، واضح سمت اور متحد جدوجہد کا جذبہ پیدا کرنا ناگزیر ہے، اور اجتماع عام اسی جدوجہد کا عملی مظہر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماع عام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد انتظامی کمیٹیوں کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع میں لاکھوں مرد و خواتین، نوجوان، بزرگ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام اب حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ جماعت اسلامی ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم رکھتی ہے، جس میں کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی کا خاتمہ ہو اور ہر شہری کو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی یقینی فراہمی ہو۔انہوں نے کہا کہ اجتماع میں قومی مسائل پر جامع پلان پیش کیا جائے گا جس میں معاشی اصلاحات، کرپشن کے خاتمے کے اقدامات، نظامِ تعلیم کی بہتری، عدالتی اصلاحات، پولیس ریفارمز اور گورننس کے موثر نظام کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔