---فائل فوٹو 

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے درمیان گلے شکووں سے بھرا مکالمہ ہوا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران ہمایوں مہمند نے ایوان میں اظہارِ خیال کے دوران کہا کہ چیئرمین صاحب آپ سے مجھے گِلا ہے، ابڑو نے پارٹی مؤقف کے خلاف ووٹ دیا اور کہا ’استعفیٰ دیتا ہوں‘، چیئرمین سینیٹ آپ فلور کراسنگ کو فروغ دے رہے ہیں۔

ہمایوں مہمند نے کہا کہ آپ نے ابڑو کو کہا ’آپ کو واپس لے آئیں گے‘، کل میں کوئی غلط کام کروں گا آپ مجھے تحفظ دیں گے؟۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ سینیٹ میں جو بل پاس کیا گیا اس میں غلطیاں تھیں: علی ظفر

علی ظفر کا کہنا تھا کہ سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے اپنا استعفیٰ دیا تھا اب وہ ووٹ نہیں کر سکتے۔

اس پر چیئرمین سینیٹ نے جواب میں کہا کہ ابڑو اس ایوان کے معزز رکن ہیں، انہوں نے ایوان میں بات کی، ابڑو نے مجھے نہ استعفیٰ دیا، نہ پی ٹی آئی نے مجھے ریفرنس دیا، نہ الیکشن کمیشن بھیجا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ ابڑو رکن ہیں ایوان کے، آپ نے مجھے کہا کہ فلور کراسنگ کو فروغ دے رہا ہوں، میں 1988ء سے پیپلز پارٹی میں ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ ہمایوں مہمند کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی