کراچی: لاوارث شہر کی چیخیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گزشتہ دن ایک اور معصوم بچہ اس شہر ِ کے کھلے مین ہول (گٹر) کی نذر ہوگیا۔ کراچی میں پیش آنے والا یہ دل خراش واقعہ حادثہ نہیں المیہ ہے۔ المیہ اس سوچے سمجھے منصوبے کا جس کے تحت اس شہر کو برسوں سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج بدانتظامی، لاقانونیت اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ نہ یہاں کوئی نوجوان اسٹریٹ کرائم سے محفوظ ہے، نہ کوئی شہری ٹینکر اور ڈمپر مافیا کے ظلم سے بچا ہوا ہے۔ کبھی بوری بند لاشوں نے کراچی کا تقدس تار تار کیا، اور آج بدترین انتظامی غفلت اس شہر کے ہر گلی کوچے میں موت کا پہرہ بٹھائے کھڑی ہے۔
سترہ برس سے سندھ پر مسلط پیپلزپارٹی کی حکمرانی نے کراچی کو اس حال تک پہنچایا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اس شہر کا میئر ایک ایسے سیاسی کارکن کو بنایا جائے گا جو شہر کے مینڈیٹ کا امین نہیں بلکہ محض پارٹی کی وفاداری کا پابند ہو۔ یہ قبضہ سیاسی بھی ہے اور انتظامی بھی، اور دونوں مل کر کراچی دشمنی کی ایک بدترین مثال قائم کر رہے ہیں۔ کراچی کا انفرا اسٹرکچر ہو، پانی کا انتظام، صفائی کا نظام یا ٹرانسپورٹ۔ ہر شعبہ سندھ حکومت کی نااہلی کی چیخیں مار رہا ہے۔ مگر شہر کے دکھوں کی فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اگر کراچی آج اس تباہی کا شکار ہے تو اس کا بوجھ صرف پیپلزپارٹی پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والی تحریک انصاف بھی اس شہر کے زخموں میں برابر کی شریک ہے۔ جب کراچی کے میئر کا فیصلہ ہو رہا تھا، تحریک انصاف نوٹوں کے بوجھ تلے ایک طرف ہو گئی۔ جماعت اسلامی کے امیدوار کو روکنے میں سب سے بڑا کردار بھی پی ٹی آئی نے ادا کیا۔ آج وہی جماعت، جو کراچی کی وکالت کے نعروں پر اقتدار میں آئی تھی، عملی طور پر پیپلزپارٹی کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز حادثے کی جگہ پر پی ٹی آئی کے رہنما عالمگیر خان کا طرزِ عمل اسی سیاسی منافقت کی تازہ مثال ہے، جہاں وہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین اور یو سی چیئرمین پر اپنے لفظی حملوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے نظر آئے اور میئر کی ترجمانی کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کی تباہی کے ذمے دار آخر کون ہیں؟ وہ جو سترہ سال سے حکومت میں ہیں، یا وہ جو تبدیلی کے نام پر امیدیں بیچ کر اسی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں؟
پیپلزپارٹی کی سترہ سالہ کارکردگی اور تحریک انصاف کا دوغلا کردار اب کراچی کے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ شہر کسی کی جاگیر نہیں، نہ کسی پارٹی کی چراگاہ۔ کراچی کے مسائل کا حل سیاسی جوڑ توڑ میں نہیں، بلکہ اس شہر کے اصل مینڈیٹ کے احترام اور انتظامی اصلاحات میں ہے۔ یہ شہر اب مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہر روز مرنے والا بچہ، ہر گٹر میں گرنے والا انسان، ہر ڈکیتی میں قتل ہونے والا شہری سیاسی بے حسی کا ماتم ہے۔ کراچی کو سیاسی انا کی نہیں، سنجیدہ منصوبہ بندی اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ شہر اسی طرح مرتا رہے گا… اور اس کی چیخیں اسی طرح ہوا میں تحلیل ہوتی رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے والا شہر کے یہ شہر
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔