اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق 30ویں کانفرنس (COP30) میں قریباً 200 ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں عالمی رہنما، سائنس دان، غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs)، مقامی کمیونٹیز اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔

کانفرنس اقوامِ متحدہ کے تحت منعقد ہونے والی سالانہ عالمی بیٹھک ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات پر پیشرفت ہے۔

کانفرنس کا انعقاد برازیل کے شہر بیلم (Belém) میں کیا جا رہا ہے، جو ایمیزون کے جنگلات کے قریب واقع ہے۔ یہ اجلاس 6 سے 21 نومبر 2025 تک جاری رہے گا، جس میں 7 نومبر کو عالمی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس ’بیلم کلائمیٹ سمٹ‘ منعقد ہوگی، جبکہ 10 سے 21 نومبر تک رسمی مذاکرات ہوں گے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کانفرنس میں شرکت کے لیے برازیل کے شہر بیلم پہنچ چکی ہیں۔ کانفرنس ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم عالمی فورم ہے، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی سطح پر ماحولیاتی اقدامات اجاگر کریں گی۔

وہ خاص طور پر پاکستان میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے کو ایک بڑی وجہ قرار دیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں کہا: ’میں COP30 بیلم، برازیل جا رہی ہوں، جہاں پنجاب کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی جدوجہد کو عالمی سطح پر پیش کروں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سُتھرا پنجاب‘، ای-موبلٹی، ایئر کوالٹی لیڈرشپ اور وائلڈ لائف پروٹیکشن جیسے اقدامات کو دنیا کے سامنے رکھوں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے موسمیاتی قیادت کی نئی لہر کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں، سائنس دانوں اور ماہرین سے ملاقاتیں کریں گی تاکہ سیارے کے مستقبل کے لیے مشترکہ حل تلاش کیے جا سکیں۔

پنجاب کی سینئر وزیر برائے ماحولیات مریم اورنگزیب بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہیں۔ کانفرنس کے دوران مریم نواز پنجاب کے فلیگ شپ منصوبوں ، سُتھرا پنجاب مہم، ای-موبلٹی، ایئر کوالٹی مینجمنٹ اور بائیو ڈائیورسٹی پروٹیکشن پر بریفنگ دیں گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی صوبائی رہنما اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔

اسموگ کا معاملہ اور بھارت کردار

وزیراعلیٰ مریم نواز کانفرنس میں پاکستان میں اسموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر خصوصی بات کریں گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں اسموگ کا قریباً 40 فیصد حصہ بھارت کی طرف سے آنے والی ہواؤں کے ذریعے داخل ہوتا ہے، جہاں فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

وہ کانفرنس کے شرکاء کو آگاہ کریں گی کہ پاکستان اسموگ کے اس خطرناک مسئلے سے کس طرح نمٹ رہا ہے، اور وہ عالمی فورم پر ’کلائمیٹ ڈپلومیسی‘ کے فروغ اور بھارت سے مشترکہ اقدامات کی بھی تجویز دیں گی۔

اس سے قبل مریم نواز نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو خط لکھنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم COP30 جیسے عالمی پلیٹ فارم پر وہ یہ مسئلہ زیادہ مؤثر انداز میں اٹھانے جا رہی ہیں۔

پنجاب حکومت کے مطابق، صوبے میں اسموگ سے نمٹنے کے لیے گرین لاک ڈاؤن، مصنوعی بارشیں اور دیگر اقدامات کیے جا رہے ہیں، مگر سرحد پار آلودگی (Transboundary Pollution) کی وجہ سے مکمل کنٹرول ممکن نہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کانفرنس کے دوران ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک اور یو این ڈی پی کے عہدیداران سے بھی ملاقات کریں گی تاکہ ماحولیاتی فنڈنگ اور تکنیکی تعاون حاصل کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی شرکت سے پاکستان کی موسمیاتی سفارت کاری کو نئی قوت ملنے کی توقع ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈنگ، ٹرانس باؤنڈری آلودگی اور علاقائی تعاون جیسے معاملات پر۔ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق، یہ دورہ پنجاب کی گرین انیشی ایٹوز کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی موسمیاتی مریم نواز میں اسموگ پنجاب کی کریں گی کے لیے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ