مقبوضہ جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والی انڈین ہیون پریمیئر لیگ (IHPL) اچانک ختم ہو گئی جب منتظمین راتوں رات فرار ہو گئے، اپنے پیچھے ادھار کے بل اور غیر ادا شدہ رقوم چھوڑ کر۔ اس صورتحال میں کھلاڑی اور امپائرز ہوٹلوں میں پھنس گئے جبکہ ایونٹ مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔

یہ لیگ، جس کا مقصد مقامی کرکٹ اور سیاحت کو فروغ دینا بتایا گیا تھا، میں بین الاقوامی کرکٹرز جیسے کرس گیل، جیسی رائڈر، اور تھیسارا پریرا نے شرکت کی تھی۔ تاہم، ایونٹ کے خاتمے نے کھلاڑیوں کو حیرت اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔

 ایونٹ کا پس منظر

IHPL کا آغاز 23 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور اسے 7 نومبر تک جاری رہنا تھا۔ لیگ میں 8 ٹیمیں شامل تھیں جن میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی شریک تھے۔

یہ ایونٹ یووا سوسائٹی نامی غیر منافع بخش تنظیم نے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد کیا تھا۔

 منتظمین کا غائب ہونا

خبر کے مطابق، 2 نومبر (اتوار) کو بخشی اسٹیڈیم ویران پڑا تھا، جب کہ لگ بھگ 40 کھلاڑیوں کو ہوٹلوں میں افراتفری کی صورتحال کا سامنا تھا۔

انگلش امپائر میلیسا جونیپر نے بتایا کہ ’منتظمین ہوٹل سے غائب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ہوٹل، کھلاڑیوں یا امپائرز کو ادائیگی نہیں کی۔ ہم نے ہوٹل انتظامیہ سے بات کر کے کھلاڑیوں کو گھر واپس بھیجنے کا بندوبست کیا۔ انہیں یہاں رکھنا ناانصافی تھی۔‘

ریذیڈنسی ہوٹل میں منتظمین نے تقریباً 150 کمرے بک کرائے تھے۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق ’انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کرس گیل جیسے اسٹار کھلاڑیوں کے ذریعے کشمیر کی سیاحت کو فروغ دیا جائے گا مگر اتوار کی صبح پتہ چلا کہ وہ بغیر بل چکائے غائب ہو گئے۔‘

 کھلاڑیوں اور حکام کا ردعمل

سابق بھارتی آل راؤنڈر پرویز رسول نے کہا کہ بعض کھلاڑیوں کو عارضی طور پر ہوٹل سے نکلنے سے روکا گیا، جب تک کہ معاملہ غیر ملکی سفارتخانوں تک نہیں پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا ’ایک انگلش امپائر کو برطانوی سفارتخانے سے رابطہ کرنا پڑا تاکہ وہ محفوظ طور پر وطن واپس جا سکیں۔‘

ایک مقامی کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ منتظمین نے ایونٹ کے اخراجات کا غلط اندازہ لگایا تھا۔

’یہ ایک نادر موقع تھا کہ ہم عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل سکیں۔ مگر اسپانسرز نے آخری لمحات میں ہاتھ کھینچ لیا، ناظرین کم آئے، اور رقم ختم ہو گئی۔ پہلے ہی دن یونیفارم تک موجود نہیں تھی۔ انہیں مقامی طور پر خریدا گیا۔ کوئی معاہدے بھی دستخط نہیں کیے گئے تھے۔‘

 حکومتی موقف

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کے ایک اہلکار کے مطابق ’IHPL کے صدر آشو دانی نے پولیس سے کلیئرنس اور اسٹیڈیم کی اجازت حاصل کی تھی۔ انہوں نے فیس ادا کی، مگر حکومت کا ایونٹ کے انعقاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ لیگ اچانک کیوں ختم ہوئی۔‘

واضح رہے کہ لیگ کا آغاز 18 ستمبر کو اعلان کے ساتھ ہوا تھا اور 32 سابق بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی۔ تاہم، تماشائیوں کی کم تعداد، اسپانسرز کے انخلا اور مالی بدانتظامی کے باعث ایونٹ اپنے آغاز کے چند ہی دن بعد منہدم ہو گیا۔

صرف کرس گیل کے میچوں میں کچھ تماشائی نظر آئے، جب کہ تھیسارا پریرا نے محض ایک میچ کھیلا۔ یوں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرکٹ اور سیاحت کو فروغ دینے کا خواب بدانتظامی اور مالی بحران کی نذر ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین ہیون پریمیئر لیگ تھیسارا پریرا کرس گیل مقبوضہ جموں و کشمیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تھیسارا پریرا کرس گیل کھلاڑیوں کو انہوں نے کرس گیل

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب