انتہاء پسند امریکی صدر نے، کئی ایک دہائیوں سے قابض اسرائیلی رژیم کیساتھ مکمل سفارتی و تجارتی تعلقات کے حامل مسلم ملک قازقستان، کی "ابراہم معاہدے" میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر نے ٹرتھ نامی سوشل پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ "قازقستان" بھی اسرائیل کے ساتھ "مفاہمتی منصوبے" میں شامل ہو گیا ہے کہ جسے "ابراہم ایکارڈز" کہا جاتا ہے! انتہاء پسند امریکی صدر نے دعوی کیا کہ قازقستان میری صدارت کی دوسری مدت میں ان معاہدوں میں شامل ہونے والا "پہلا ملک" ہے اور امید ہے کہ "کئی ایک دوسرے ممالک" بھی اس معاہدے میں شامل ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ جب قزاقستان نے، غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ گذشتہ 30 سالوں سے زائد کے عرصے سے مکمل سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔

اس بارے معروف امریکی ای مجلے ایکسیس (Axios) نے پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس جیسے "بے بنیاد" اقدامات سے ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد، جنگ غزہ کے بعد، اسرائیل کو "عالمی تنہائی" سے باہر لانا ہے۔ گذشتہ ماہ ایکسیس کے ساتھ گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ کی جنگ نے "اسرائیل کو بُری طرح سے تنہا کر دیا ہے" اور یہ کہ میری ترجیحات میں سے ایک "تل ابیب کے لئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا" ہو گا۔ 

امریکی میڈیا نے بھی "اسرائیل کے ساتھ امن" (ابراہم) معاہدے میں قازقستان کی شمولیت کو ایک "معمولی واقعے" کے طور پر پیش کیا ہے کیونکہ اسرائیل اور قازقستان کے درمیان تنازعات کا "کوئی ریکارڈ ہی نہیں" اور نہ ہی قازقستان میں اسرائیلی سفر یا تجارت پر کوئی پابندیاں عائد ہیں! امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب یا حتی شام جیسے بڑے علاقائی کھلاڑیوں کو بھی اس معاہدے میں شامل کرنا چاہتی ہے تاہم امریکی حکام نے ایکسیس کو مزید بتایا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ابھی بہت "دور" ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: معاہدے میں کے ساتھ کیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل