Jasarat News:
2026-07-24@05:39:33 GMT

سوڈان میں خونیں کھیل

اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سوڈان ایک بار پھر خون میں نہا رہا ہے۔ شہر الفشر میں گزشتہ ہفتے سے جو مناظر سامنے آرہے ہیں، وہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ فوجی انخلا کے بعد سے ریپڈ سپورٹ فورسز نے شہر پر قبضہ کر کے ایک ایسا قتل عام شروع کیا ہے جس نے دارفور کے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ صرف چار دن میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور پچیس ہزار سے زیادہ شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، الفشر کے اطراف میں ایک لاکھ سترہ ہزار کے قریب لوگ پھنسے ہوئے ہیں، بغیر خوراک، پانی یا طبی سہولت کے۔ اس المناک صورتحال کی جڑیں آج کی نہیں بلکہ ایک دہائی پرانی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ 2013ء میں جب دارفور میں بغاوت کے شعلے بھڑکے، تو خرطوم نے روایتی فوج کی ناکامی کے بعد ایک نئی ملیشیا بنائی، ریپڈ سپورٹ فورس۔ مقصد یہ تھا کہ تیز رفتار کارروائیوں کے ذریعے شورش کو ختم کیا جائے۔ لیکن جیسا کہ تاریخ گواہ ہے، ’’ایک ملک میں دو فوجیں کبھی ساتھ نہیں رہ سکتیں‘‘۔ اس ملیشیا کو وسائل، اختیار اور تحفظ دیا گیا، مگر اس کے ساتھ وہ خود مختاری بھی ملی جس نے بالآخر ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ ماضی میں دیکھا جائے تو جب 2019ء میں عمرالبشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوا، تو یہی ملیشیا اقتدار کی کشمکش میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگی۔ ریپڈ فورسز نے فوجی اقتدار کے عبوری دور میں بھی اپنے اثر و نفوذ میں اضافہ جاری رکھا۔ پھر 2023ء میں وہ لمحہ آیا جب جنرل برھان کی فوج اور جنرل حمیدتی کی فورس کے درمیان تصادم نے سوڈان کو مکمل خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ آج الفشر میں جو خون بہہ رہا ہے، وہ دراصل انہی غلط فیصلوں اور طاقت کے بے لگام استعمال کا نتیجہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ سوڈان کی صورت حال اب انسانی المیے کی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر، معیشت تباہ، اسپتال ملبے میں تبدیل، اور عورتیں و بچے عدم تحفظ کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن عالمی طاقتوں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ وہی مغربی دنیا جو یوکرین یا اسرائیل کے لیے ہمدردی کے بیانات دیتی ہے، سوڈان کے جلتے ہوئے شہروں پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ سوڈان کا المیہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ یہاں بھی عالمی بے حسی صاف نظر آتی ہے۔ جب کسی ریاست کے اندر طاقت کے دو مراکز قائم ہو جائیں، جب اقتدار ذاتی مفاد کے تابع ہو جائے، جب بین الاقوامی طاقتیں اپنے سیاسی ایجنڈے کی اسیر ہوجائیں تو ایسے ہی حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس وقت سوڈان کو فوری طور پر جنگ بندی، غیر جانب دار انسانی رسائی، اور ایک جامع سیاسی عمل کی ضرورت ہے، جس میں فوج، ریپڈ فورس اور سول سوسائٹی سب شامل ہوں۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ صرف تماشائی بنے رہنا چاہتی ہے یا واقعی انسانی حقوق کے اصولوں پر قائم ہے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا

جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔

یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔

‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسانی فریج جاپان گرمی

متعلقہ مضامین

  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا