اسلام آباد میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کی زیر صدارت اجلاس معنقد ہوا جس میں ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا سمیت تمام ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ڈی آئی جی نے شہر کی سیکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے سخت احکامات جاری کیے اور غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقیم افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں، قبضہ مافیا، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے،ایسے عناصر کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
محمد جواد طارق نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث متحرک گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کار و موٹر سائیکل چوری میں ملوث گروہوں کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں، شہر میں گشت اور چیکنگ کو بامقصد بنایا جائے، شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے خلاف
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔