سی پیک فیزٹو پاکستان کی صنعتی و زرعی خودمختاری کی بنیاد ہے،میاں زاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان وپالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے دوسرے مرحلے سے پاکستان کی معیشت میں انقلابی تبدیلیوں کی راہ ہموارہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیزٹوصنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور زراعت میں جدت پر مرکوزہے، جب کہ پہلا مرحلہ توانائی بحران کے خاتمے اورشاہراہوں کی تعمیرجیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پرمرکوزتھا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ سی پیک فیزٹوپاکستان کے لیے خودکفالت، صنعتی اور زرعی مرکزبننے کا تاریخی موقع ہے۔ یہ معیشت کوعلم وٹیکنالوجی اور برآمدات پرمبنی گروتھ کی طرف لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اوررشکئی اسپیشل اکنامک زون جیسے منصوبے غیرملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اورٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ملک میں نئی اقتصادی سرگرمیوں کوفروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اکنامک زونزمیں ہائی ویلیو ایڈیشن والی خصوصی صنعتوں پرتوجہ دی جائے تاکہ چین سمیت دیگرممالک کی سرمایہ کارکمپنیاں پاکستان میں جدید صنعتیں قائم کریں، سپلائی چین مضبوط ہو، اور 2030 تک لاکھوں ہنرمند روزگارحاصل کرسکیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ سی پیک فیزٹو صنعتی بلکہ زرعی انقلاب کی بنیاد بھی رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے کہا کہ سی پیک
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔