لاہور میں ہوا کی بہتری سے اسموگ میں کمی، اے کیواٸی میں نمایاں فرق
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں اسموگ کی صورتحال میں گزشتہ رات کے مقابلے میں واضح بہتری دیکھنے کو ملی ہے، جہاں آج صبح 12 بجے اے کیواٸی 160 ریکارڈ کیا گیا, جب کہ گزشتہ رات یہ 390 تھا۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق اے کیواٸی میں کمی کی وجہ ہوا کی سمت اور رفتار ہے، جس نے آلودگی کے ذرات کو پھیلنے سے روکا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اے کیواٸی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونے کی وجہ سے آلودگی کے ذرات منتشر ہو رہے ہیں جس سے لاہور کی فضائی معیار میں بتدریج بہتری آئی ہے۔
حکومتی اقدامات اور موسمی حالات کے باعث شہریوں کو نسبتاً بہتر فضا میسر آ رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ موجودہ ہوا کی رفتار فضائی آلودگی میں کمی کے لیے معاون ثابت ہو رہی ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ فضا میں بہتری کے باوجود غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کوڑا کرکٹ کو آگ نہ لگائیں تاکہ اسموگ کی صورتحال مزید بہتر ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوا کی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔