سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ اسٹیبلشڈ جمہوریت کے مداح ہیں، 27ویں ترمیم کی سینیٹ سے منظوری سے قبل ہی لوگوں کو مٹھائی کھلا دی تھی، ہمارے پاس 67 ارکان کی حمایت موجود تھی، 3 بچا کے رکھے تھے، اب 27ویں ترمیم کو چھوڑیں 28ویں کی بات کریں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں اس ترمیم کی منظوری سے پہلے ہی مٹھائی کھلا چکا تھا، ایک سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ 27ویں ترمیم آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ

فیصل واوڈا نے کہا کہ اس ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو 64 ووٹ درکار تھے، حکومت کے پاس سینیٹ میں 67 ارکان موجود تھے، 3 بچا کے رکھے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی نے مدد کی، جب بھی ایسی صورتحال آتی ہے تو پی ٹی آئی مدد کو آ جاتی ہے، 27ویں ترمیم کی بات اب چھوڑیں 28ویں کی بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہائبرڈ گاڑیاں بدلتی ہیں، اس طرح ہائبرڈ نظام بھی بدل رہا ہے، اب اپوزیشن کیوں پیٹ رہی ہے، چیئرمین سینیٹ نے 59 بار کہا کہ کیا کسی کو ان ترامیم پر اعتراض ہے تو کسی نے نہیں کہا کہ انہیں اعتراض ہے، اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا نہ کہ خود کو رجسٹرڈ کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی جان بچانے کا فارمولہ کیا ہے؟ فیصل واوڈا نے بتادیا

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کیا ہوا تھا جبکہ سینیٹ میں اس معاملے پر کسی نے بھی تقریر نہیں کی، یہ لوگ کھلے عام حمایت نہیں کرتے، اندر سے مدد کرتے ہیں، ہم بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ آئینی ترامیم پاس کروانے کے لیے پارلیمان میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جنہیں پڑھنا لکھنا نہیں آتا، کوئی اردو بول سکتا ہے، انگریزی نہیں لکھ سکتا نہ پڑھ سکتا ہے، ترامیم پر بات کر کے وقت ضائع نہ کریں، ملک کو چلنے دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27ویں ترمیم we news فیصل واوڈا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27ویں ترمیم فیصل واوڈا فیصل واوڈا نے کہا کہ 27ویں ترمیم ترمیم کی کی بات

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن