احتجاج کے مقدمات میں عدالت کا فیصلہ، بشریٰ بی بی سمیت تمام ملزمان کی گرفتاری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے مختلف احتجاج پر درج مقدمات میں بشریٰ بی بی سمیت تمام ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی 256 ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے تمام درخواستوں میں 19 جنوری تک توسیع کر دی۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ’مجھے یہ سال کوئی اچھا نہیں لگ رہا، جس پر پی ٹی آئی وکلاء نے کہا کہ سر، اگر یہ سال اچھا نہیں تو اگلے سال کی کوئی تاریخ ڈال دیں۔‘‘ عدالت نے تمام ضمانتوں کی درخواستوں پر مزید سماعت 19 جنوری 2026 تک ملتوی کر دی۔ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر، عبدالقیوم نیازی، شہریار آفریدی سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، شہرام ترکئی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر احتجاج، 4 اکتوبر احتجاج، سنگجانی جلسہ اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔