27ویں آئینی ترمیم، سپریم کمانڈر صدر ہی رہیں گے: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے حوالے سے جو باتیں چل رہی ہیں کہ تمام افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر ہوں گے، ایسا نہیں ہے۔ تمام افواج کے سپریم کمانڈر صدرِ مملکت ہی رہیں گے، اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم لازمی ہے، بعض آئینی ترامیم ضروری ہوتی ہیں، جیسے 26ویں آئینی ترمیم لانا ناگزیر تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے وہ ججز جو اپنی مرضی سے ’’پک اینڈ چوز‘‘ کرتے تھے، اب وہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس آ گیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ ہی سب کو بااختیار بناتی ہے۔ آرٹیکل 243 کے حوالے سے بحث جاری ہے لیکن میرے مطابق آرٹیکل 243 میں کوئی ترمیم نہیں ہو رہی، افواج کے سپریم کمانڈر صدرِ پاکستان ہی رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب جنرل پرویز مشرف آرمی چیف تھے تو انہیں صدر بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی کی جا رہی تھی، ہر طرف اس پر بحث جاری تھی۔ اس وقت میں نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کہا تھا کہ سابق آرمی چیف کو صدر بنانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، وہ پارلیمنٹ سے ایک ایکٹ منظور کروا سکتے ہیں۔ میری اس تجویز کے بعد پارلیمنٹ نے ایکٹ منظور کیا اور وہ صدر بن گئے۔
ملک احمد خان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوگی۔ اگر کوئی مقامی حکومتوں کو ڈی ریل کرنا چاہے گا تو وہ آئین توڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ اس نئی آئینی ترمیم میں یہ شامل کیا جائے کہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ نے اپنی اپنی اسمبلیوں میں قرارداد منظور کی ہے کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ق لیگ اور پی ٹی آئی نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جائے۔
اگر مقامی حکومتوں کو اس ترمیم میں شامل کر لیا جاتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مزید اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل ہوں گے۔ جیسے 18ویں ترمیم میں صوبائی مالیاتی کمیشن ہے، میری رائے میں اسی طرح مالیاتی کمیشن مقامی حکومتوں کے پاس بھی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاق کو اپنے نظم و نسق چلانے میں کوئی مسئلہ آتا ہے، جیسے وفاق اپنے وسائل کا 30 سے 35 فیصد قرض کی ادائیگی میں خرچ کرتا ہے، تو صوبوں کو چاہیے کہ وہ وفاق کی مدد کرتے ہوئے قرض اتارنے میں حصہ ڈالیں۔ 27ویں ترمیم میں ہم چاہتے ہیں کہ مقامی حکومتیں بااختیار ہوں، اگر کوئی حکومت انہیں ڈی ریل کرے تو وہ آئین شکنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بات ہوگی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہوں گے تو ہی مقامی حکومتوں کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کیا جائے گا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر نواز شریف بھی رضامند ہو جائیں گے، میں ان کی خواہش سے واقف ہوں۔ نواز شریف عوام کی بہتری چاہتے ہیں، عام لوگوں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں، ان کی سیاسی سوچ میں پاکستان کی ترقی اور عام آدمی کا بھلا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔