وفاقی حکومت کا صحافیوں کے تحفظ کے لیے خودمختار کمیشن قائم
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
وفاقی حکومت نے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے ایکٹ 2021ء کی شق 11 کے تحت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے ایک خودمختار کمیشن قائم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشہرہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے صحافی قتل
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ کمیشن قانون کے تحت مقرر کردہ اختیارات استعمال کرے گا اور تفویض کردہ فرائض انجام دے گا۔
کمیشن میں وزارت اطلاعات کے پی آئی او/ای ڈی جی (ایکس آفیشیو) اور وزارت انسانی حقوق کے ڈائریکٹر جنرل ایچ آر (ایکس آفیشیو) بھی شامل ہیں۔ کمیشن کے دیگر اراکین میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ سے غلام نبی یوسفزئی، نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے نیئر علی، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان سے نوید اکبر چوہدری، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (برنا) سے افضل بٹ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (برنا عظیم گروپ) سے حسن عباس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) سے محمد نواز رضا، کراچی یونین آف جرنلسٹس سے طاہر حسن خان، پنجاب یونین آف جرنلسٹس سے تمثیلہ چشتی، خیبر یونین آف جرنلسٹس سے نادیہ صبوحی اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس سے خلیل احمد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:4 سال، پاکستان میں 42 صحافی قتل
ترجمان وزارت اطلاعات کے مطابق اس کمیشن کا قیام صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور میڈیا پروفیشنلز کے حقوق کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صحافی تحفظ ایکٹ عطا تارڑ میڈیا پروفیشنلز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صحافی تحفظ ایکٹ عطا تارڑ میڈیا پروفیشنلز یونین آف جرنلسٹس سے میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔