امریکی میڈیا نے عالمی سطح پر ہندو انتہا پسندی کی تشہیر بے نقاب کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی سطح پر ہندو انتہا پسندی کی تشہیر، بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب،سفاک مودی کی سرپرستی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) عالمی سطح پر انتہا پسند ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ غاصب مودی اور آر ایس ایس ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال سے اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔امریکی جریدے پریزم کی تحقیقات کے مطابق آر ایس ایس نے امریکی لا فرم کے ذریعے امریکی کانگریس پر اثر ڈالنے کے لیے لابنگ شروع کر دی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آرایس ایس بیرون ممالک بالخصوص امریکا میں لابنگ کے لیے خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔ آر ایس ایس امریکا میں فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے بغیر لابنگ کرا رہی ہے۔ ایک امریکی صحافی نے انکشاف کیا کہ آر ایس ایس نے خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو غیر ملکی ادارے کے طور پر درج کیے بغیر لابنگ کی۔ معروف امریکی صحافی ڈاکٹر آڈری ٹرشکے کے مطابق آر ایس ایس کی لابنگ امریکا کے لیے بری خبر ہے اور امریکی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔ماہرین کے مطابق آر ایس ایس کی امریکا میں سرگرمیاں عالمی سطح پر فاشسٹ تشخص بدلنے کی کوشش ہیں۔ ہندو توا ایجنڈے کے تحت انتہا پسند مودی سرکار ، بھارت میں مذہبی آزادی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی سطح پر ا ر ایس ایس کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔