حیدر آباد فیکٹری دھماکے کا ایک اور زخمی چل بسا، تعداد10 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) حیدرآباد میں آتش بازی کا سامان بنانے والی غیر قانونی فیکٹری میں دھماکے کا ایک زخمی مزدور جان کی بازی ہار گیا، ہلاک شدگان کی تعداد10ہوگئی، فیکٹری کے مالک اسدخان زئی سمیت چار ملزمان کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج ، ایک مبینہ ملزم گرفتار۔ حیدرآباد کی تحصیل لطیف آباد کے لغاری گوٹھ میں قائم غیرقانونی پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں دھماکا اور آگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک اور مزدور سول اسپتال حیدرآباد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔اس طرح جاں بحق ہونے والوں کی تعداد10ہوگئی۔ہفتے کی شام لغاری گوٹھ کے ویران علاقے میں قائم غیرقانونی طورپر پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے مزوروں کی تعداد 10 ہوگئی ہے، سول اسپتال میں زیر علاج ایک اور مزدور وقاص احمد جو لطیف آباد بسم اللہ سٹی کا رہائشی تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، اس وقت سول اسپتال حیدرآباد میں اس سانحہ کے تین زخمی زیر علاج ہیں، 2زخمی گزشتہ روز کراچی کے سول اسپتال میں جاں بحق ہوگئے تھے، باقی دیگر زخمیوں کو طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا۔ ادھر بی سیکشن پولیس نے فیکٹری مالک اسد خان سمیت چار افراد کیخلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ جس فیکٹری میں یہ دھماکا ہوا تھا اس کی عمارت زمین بوس ہوگئی تھی ،وہاں موجود پانچ سے چھ موٹر سائیکلیں مبینہ طور پرپولیس اور علاقے کے افراد لے گئے، اسی طرح فیکٹری کا سامان بھی راتوں رات غائب کردیا گیا۔علاوہ ازیںلطیف آباد پٹاخہ فیکٹری واقعے کی تفتیش میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے جس میں ایل ایم سی اسپتال حیدرآباد میں ناقابل شناخت میّتوں کی جانچ کے بعد شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جن میں سے ایک اسد یوسفزئی ولد الیاس جو کہ فیکٹری کا مالک بتایا جاتا ہے، دوسرا فیصل ولد فاروق اور تیسرا رضوان ولداقبال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سول اسپتال فیکٹری میں ایک اور
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر