Islam Times:
2026-06-03@03:20:23 GMT

سندھ بھر میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 232 کیسز رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

سندھ بھر میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 232 کیسز رپورٹ

سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹریز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبہ سندھ میں ڈینگی کے مزید 232 کیسز سامنے آگئے ہیں اور کراچی میں سب سے زیادہ 127 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے بھر میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے 34 اور نجی اسپتالوں میں 17 نئے مریض داخل ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبہ بھر میں داخل مریضوں کی مجموعی تعداد 44 ہو چکی ہے۔ کراچی ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں 17، حیدرآباد کے سرکاری اسپتالوں میں 9 نئے مریض داخل ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سرکاری اسپتالوں سے 38 اور نجی اسپتالوں سے 34 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو روانہ ہوگئے ہیں۔ ڈی جی ہیلتھ سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 2432 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 232 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹریز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکاری اسپتالوں اسپتالوں میں میں ڈینگی کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے