سندھ بھر میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 232 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹریز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبہ سندھ میں ڈینگی کے مزید 232 کیسز سامنے آگئے ہیں اور کراچی میں سب سے زیادہ 127 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے بھر میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے 34 اور نجی اسپتالوں میں 17 نئے مریض داخل ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبہ بھر میں داخل مریضوں کی مجموعی تعداد 44 ہو چکی ہے۔ کراچی ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں 17، حیدرآباد کے سرکاری اسپتالوں میں 9 نئے مریض داخل ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سرکاری اسپتالوں سے 38 اور نجی اسپتالوں سے 34 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو روانہ ہوگئے ہیں۔ ڈی جی ہیلتھ سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 2432 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 232 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹریز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرکاری اسپتالوں اسپتالوں میں میں ڈینگی کے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔