data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251208-08-27
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو کہا ہے کہ پاکستان یکم جنوری سے اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بین الاقوامی منڈیوں میں بیچنا شروع کر دے گا۔ علی پرویز ملک کا یہ بیان لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران آیا، جبکہ چند ماہ قبل یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ پاکستان اضافی ایل این جی کارگوز بیچنے کے طریقے تلاش کر رہا تھا، کیوں کہ گیس کی فراہمی میں زیادتی کے باعث مقامی پیدا کنندگان کو سالانہ لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہو رہا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہمارے دوست قطر اور اطالوی توانائی کمپنی اینی سے گیس درآمد کر رہا تھا، لیکن، اس درآمد شدہ گیس کی فراہمی میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں ملک میں توانائی کی پیداوار کے لیے اس ایندھن کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نتیجتاً، ہمیں اسے گھریلو صارفین کو فراہم کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھ رہا تھا، اس سے 19-2018 سے اب تک پاکستان کو تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے ہم یہ اضافی ایندھن بین الاقوامی منڈیوں میں بیچیں گے اور اپنے بوجھ کو کم کریں گے، جبکہ اس کے باعث ہونے والے نقصانات کو محدود کریں گے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے ریاستی ملکیتی اداروں کو مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے اور منافع کمانے کا موقع دے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران علی پرویز ملک نے پیٹرولیم کے شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے متوقع سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ترکی کے وزیر توانائی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر کے گئے تھے اور 20 سال بعد ترک پیٹرولیم، پاکستانی کمپنیوں کے تعاون سے آن شور اور آف شور تلاش کے کاموں میں حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترک پیٹرولیم اسلام آباد میں اپنا دفتر بھی کھولے گی، جہاں 10 سے 15 ترک شہری کام کریں گے، پاکستانیوں کو بھی وہاں روزگار ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رہا تھا کریں گے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ